یمنی وزیر کا خاتون فن کارہ کی رہائی کے لیے حوثیوں پر حقیقی دباؤ کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے خاتون فیشن ماڈل اور فن کارہ انتصار الحمادی کو نفسیاتی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنائے جانے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انتصار ایک برس سے حوثی ملیشیا کی جیل میں جبری روپوشی کا شکار ہیں۔ فیشن ماڈل کے زبردستی بال کاٹ دیے گئے ہیں اور ان کے خلاف 5 برس کے غیر قانونی فیصلے کا اجرا بھی ہوا ہے۔

الاریانی نے یمن ، عرب ممالک اور دنیا بھر میں ثقافتی اور فنی شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد ، دانش وروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انتصار اور اس کے گھر والوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔ ساتھ ہی حوثی ملیشیا پر دباؤ ڈالیں تا کہ انتصار کی فوری رہائی عمل میں آ سکے۔ انتصار خود کشی کی کئی ناکام کوششیں کر چکی ہے۔

یمنی وزیر نے عالمی برادری ، اقوام متحدہ اور یمن کے لیے اقوام متحدہ اور امریکا کے خصوصی ایلچیوں پر زور دیا ہے کہ وہ یمنیوں کے خلاف حوثی ملیشیا کے مرتکب جرائم کی مذمت کریں۔ ان جرائم سے خواتین بھی محفوظ نہیں ہیں۔

یاد رہے کہ انتصار الحمادی کو گذشتہ برس 20 فروری کو اس وقت غوا کر لیا گیا تھا جب وہ اپنی دوستوں کے ساتھ ایک فوٹو سیشن کے لیے جا رہی تھیں۔

انتصار کے والد یمنی اور والدہ ایتھوپیا سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہ 4 برس سے فیشن ماڈل کے طور پر کام کر رہی ہے۔ اس نے 2020ء میں یمن کے دو ٹی چینلوں پر دو ڈرامہ سیریلوں میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے۔

گذشتہ برس ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے بتایا تھا کہ انتصار الحمادی کو کئی جرائم کے اعتراف پر مجبور کیا گیا۔ ان میں منشیات رکھنا اور بدکاری کی سرگرمیاں شامل ہیں۔ حوثیوں نے پوچھ گچھ کے دوران میں انتصار کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اسے ایک دستاویز پر دستخط کرنے پر بھی مجبور کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں