روسی صدر ولادی میر پوتین کے لیے اس وقت سب سے بڑے اندیشوں میں روس کے اطراف ممالک میں نیٹو اتحاد اور امریکا کے عسکری وجود کی توسیع شامل ہے۔ یہ ممالک اسٹونیا، لیٹوینیا اور پولینڈ ہیں۔ البتہ نیٹو کئی بار باور کرا چکا ہے کہ اس کی پالیسیاں اقدامی نہیں بلکہ دفاعی ہیں۔
پولینڈ میں ایک باڑ لگے جنگل کے اندر ایک انتہائی حساس امریکی عسکری تنصیب واقع ہے۔ توقع ہے کہ یہ رواں سال کام شروع کر دے گی۔ واشنگٹن کا پر زور موقف ہے کہ وہ یورپ کے دفاع میں مدد کرے گا۔
تاہم امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق روسی صدر پوتین پولینڈ میں اور رومانیہ میں امریکی فوجی اڈے کو خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہ مشرقی یورپ کیس مت نیٹو اتحاد کے وجود میں توسیع اور یوکرین کے فوجی گھیراؤ کے جواز کا ایک حصہ ہے۔
روسی صدر رومانیہ میں اپنے ملک کی سرحد کے نزدیک امریکی میزائلوں کی تنصیب پر چراغ پا ہیں۔ تاہم روسی اراضی سے صرف 100 میل کی دوری پر پولینڈ کے گاؤںRedzikowo کے نزدیک امریکی فوجی تنصیب پوتین کے لیے ایک سب سے بڑا اندیشہ ہے۔
پوتین کے نزدیک یہ تنصیب روسی میزائلوں کو مار گرانے یہاں تک کہ ماسکو پر کروز میزائلوں کے داغے جانے کے واسطے بھی استعمال ہو سکتی ہے۔
امریکی قومی سلامتی کے ایک سابق سینئر عہدے دار تھامس گراہم کے مطابق ماسکو نے کبھی بھی امریکا کی اس یقین دہانی پر اعتبار نہیں کیا کہ واشنگٹن کا میزائل نظام روس کے لیے نہیں بلکہ ایران کو نشانہ بنانے کے لیے ہے۔
واضح رہے کہ پولینڈ میں مذکورہ امریکی فوجی اڈے میںAegis Ashore کے نام سے ایک نظام نصب ہے۔ یہ نظام جدید ترین ریڈاروں پر مشتمل ہے۔ یہ ریڈار دشمن کے میزائلوں کے تعاقب اور ان کو گرانے کے لیے میزائلوں کی رہ نمائی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس امریکی ڈے کے ساتھ ساتھ نیٹو اتحاد نے تقریبا 5000 فوجیوں کو اسٹونیا ، لیٹویا، لٹوینیا اور پولینڈ میں تعینات کیا ہے۔
اسی طرح امریکا نے بھی پولینڈ اور رومانیا میں 5000 فوجیوں کے تعینات کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ ادھر برطانیہ بھی سیکڑوں فوجی پولینڈ بھیج رہا ہے۔ جرمنی ، ہالینڈ اور ناروے بھی اضافی فورسز لٹوینیا بھیجیں گے۔ ڈنمارک اور اسپین یوکرین کی فضائی پولیس کو طیارے پیش کریں گے۔
یہ تمام اعداد و شمار "کرملن" ہاؤس کے مکینوں کے واسطے سرخ لکیر شمار ہوتے ہیں