مغرب کا وہ ہتھیار جو بنا کوئی گولی چلائے پوتین کی قوت کو تباہ کر دے گا
روس نے یوکرین پر بھرپور حملہ کر دیا ہے۔ اس صورت حال میں مغربی ممالک روسی عفریت کو قابو کرنے کے لیے جو ہتھیار استعمال کر سکتے ہیں وہ ماسکو پر اقتصادی پابندیاں ہیں۔
ان پابندیوں کے ضمن میں جرمنی نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ اس نے نورڈ اسٹریم 2 پائپ لائن کے منصوبے کی منظوری روک دی ہے۔
مغرب کی جانب سے روسی صدر پوتین کے خلاف جس خطر ناک ہتھیار کا عندیہ دیا جا چکا ہے وہ SWIFT ہے۔ یہ پیغامات کی ایک عالمی خدمت ہے جس کو بینک اور مالیاتی ادارے استعمال کرتے ہیں۔
روس کو SWIFT کے سسٹم سے نکال دینے کا مطلب ہو گا کہ مالیاتی اداروں کے لیے روس کے اندرون یا بیرون مالی رقوم ارسال کرنا دشوار ہو جائے گا۔ یہ روسی کمپنیوں اور ان کے غیر ملکی صارفین کے لیے ایک بڑا دھچکا ہو گا۔
موفدة #العربية إلى #كراماتورسك كريستيان بيسري: دبابات روسية تدخل أراضي #أوكرانيا بطول الحدود.. والانفصاليون يؤكدون مواصلة القتال pic.twitter.com/JDUhZEWQLi
— العربية (@AlArabiya) February 24, 2022
ماہرین نے توقع ظاہر کی ہے کہ اس امر کے نتیجے میں روسی بینکوں میں تمام بین الاقوامی معاملات ختم ہو جائیں گے اور روسی کرنسی روبل کی قدر متاثر ہو گی۔
واضح رہے کہSWIFT کا صدر دفتر بیلجیم مین ہے۔ اس کو 25 افراد پر مشتمل مینجمنٹ بورڈ چلاتا ہے۔ یہ ادارہ بیلجیم کے ملکی قانون کے تحت قیام کیا گیا تھا۔
اس سے قبل 2012ء میں ایرانی بینکوں کوSWIFT سے علاحدہ کر دیا گیا تھا۔ یہ اقدام یورپی یونین کی جانب سے تہران پر عائد پابندیوں کے بعد سامنے آیا تھا۔ یہ پابندیاں تہران کے جوہری پروگرام کے سبب عائد کی گئیں تھیں۔
روس کے سابق وزیر خزانہ الیکسی کوڈرن کے 2014ء کے اندازے کے مطابق اگر روس کو SWIFT سے نکالا گیا تو اس کی معیشت 5% تک سکڑ جائے گی۔