’یوکرین کو امریکی خاتون اینکر کی خاطرجنگ بند کردینا چاہیے‘
’یوکرین جنگ نے میرا یورپ کا ٹرپ متاثر کردیا‘: امریکی صحافیہ کا شکوہ
دنیا کی توجہ اس وقت روس کی یوکرین پر چڑھائی روکنے پر مرکوز ہے مگرامریکا کے ’اے بی سی‘ ٹی وی چینل کے فلیگ شپ پروگرام’دی ویو‘ کی میزبان جوئے بیھارکو شکایت ہے کہ ماسکو۔کیف جنگ نے اس کے یورپی سیاحتی ٹرپ کو متاثر کر دیا ہے۔
جوئے بیھار کی جانب سے یوکرین جنگ کے دوران یورپ میں اپنی تعطیلات میں خلل کی شکایت پرانہیں سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں سخت تنقید کا سامنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یوکرین اور روس کے درمیان جنگ چھڑنے سے ان کی یورپی ملکوں میں چھٹیاں گذارنے کی اسکیم متاثر ہوگی۔
79 سالہ اینکر نے یہ بات گذشتہ جمعرات کی شام ٹی وی پر پیش کردہ اپنے شوکے دوران کہی۔
شریک میزبان سونی ہیوسٹن یوکرین میں انسانی بحران کے بارے میں بات کر رہے تھے۔قبل ازیں بہار نے شکایت کی کہ کرونا وبا کی بندشوں کے باعث ان کا اٹلی کا سفر متاثر ہوا تھا۔
ہیوسٹن نے کہا کہ اندازہ ہے کہ 50,000 یوکرائنی ہلاک یا زخمی ہوں گے۔ یہ یورپ میں مہاجرین کے بحران کا نقطہ آغاز ہوگا۔ 50 لاکھ لوگ بے گھر ہو جائیں گے، یہ افسوسناک ہے۔
اس موقعے پر بہار نے کہا کہ وہ اس سے "خوفزدہ" ہے کہ بحران کی وجہ سے مغربی یورپ میں کیا ہوگا۔ میں چار سال سے اٹلی جانا چاہتی تھی مگرمیں وبا کی وجہ سے نہیں جا سکی۔ اب روسی حملے نے ’کام خراب‘ کردیا۔
ان کے اس بیان پر سوشل میڈیا ویب سائٹس پر سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ امریکی اینکر کو اپنے یورپی ٹرپ کے متاثر ہونے کی فکر دامن گیر ہے اور یوکرین جنگ میں مارے جانے والےلوگوں کی کوئی پرواہ نہیں۔
مصنف اور مزاح نگار ٹم ینگ نے ایک ٹویٹ میں بیہار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کو صرف فکر ہے اس کے اٹلی کے سفرمیں خلل پڑے گا۔
یوٹیوبر برینڈن ہیریرا نے طنزا کہا کہ جنگ بہت ہی دکھی ہے اور سب کچھ، لیکن کیا ہوگا اگر جوائے بیہار اپنی چھٹیاں اٹلی میں نہیں گزار سکتی؟ میرا مطلب ہے کہ یوکرینیوں کو امریکی اینکر کی خاطر لڑنا چھوڑ دینا چاہیے۔
پروڈیوسر لز وہیلر نے لکھاکہ میں یقین نہیں کر سکتا یہ الفاظ جوئے بیہار نے یہ کہے۔