روس اور یوکرین

"ملٹری کیموفلیج‘ کے پیچھے حُسن" روسی فوجی حسیناؤں میں خوبصورتی کا مقابلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک طرف یوکرین روسی فوجی آپریشن کے بعد گولیوں اور بمباری کی آوازوں کے ساتھ جی رہا ہے اور اس کے باشندے رضاکارانہ طور پر اپنی سرزمین پر روسی فوج سے لڑنے کے لیے متحرک ہیں وہیں روس میں خواتین فوجیوں کے لیے ایک مقابلہ حسن کا انعقاد کیا گیا جسے "Beauty Behind Military Camouflage" کا نام دیا گیا۔

برطانوی اخبار "مرر" نے ملٹری میگزین "ریڈ سٹار" کی ویب سائٹ کے حولے سے رپورٹ دی ہے جس میں کہا ہے کہ روسی فوجی حسیناؤں کے پہلے مرحلے میں 40 خواتین سپاہیوں نے حصہ لیا۔ ان میں سے کچھ کا تعلق روسی اسٹریٹجک میزائل فورسز سے تھا۔

مقابلے کا پہلا مرحلہ "کمبیٹ میک اپ" میں پیش ہونا تھا جس میں کیمیکل وارفیئر ڈپارٹمنٹ میں خواتین فوجیوں کو گیس ماسک کے ساتھ ان کی شکل وصورت میں نمایاں کیا گیا۔

مسابقة لحسنوات الجيش الروس
مسابقة لحسنوات الجيش الروس

خواتین سپاہیوں کے جمالیاتی پہلو پر توجہ دینے کے علاوہ مقابلے میں عام امتحانی سوالات جیسا کہ تیر اندازی اور عملی سوالات بھی شامل تھے۔

مقابلے میں ایک روسی فائٹر کا اعزاز بھی شامل تھا جس نے یوکرین میں ایک ساتھی کو فائرنگ سے بچایا۔ اس نے زخمی سپاہیوں کو جوان مردی سے فائرنگ سائٹ سے باہر نکالا۔

ایک فوجی پیرامیڈک کو بھی اعزاز سے نوازا گیا جس نے زخمی روسی فوجیوں محاذ جنگ پر علاج کرایا۔ یہ فوجی یوکرینی فائرنگ کی زد میں آکر زخمی ہوگئے تھے۔

روسی میگزین نے اس مقابلے کے فاتح کی شناخت کے حوالے سے کسی اور تفصیلات کا ذکر نہیں کیا۔

خوبصورتی، صنف نازک، جنگ اور اس کے حربوں کی طرف واپسی کے جلو میں روسی صدر ولادیمیر پوتین نے جمعے کے روز روسی قومی سلامتی کونسل کے ساتھ ایک میٹنگ کی جس میں یوکرین میں اپنے ملک کی قیادت میں فوجی آپریشن پر تبادلہ خیال کیا۔

ملاقات کے دوران پوتین نے تصدیق کی کہ لڑنے کے خواہ شمند رضاکاروں کو یوکرین جانے کی اجازت دی جائے گی۔ جب کہ روسی وزیر دفاع سرگئی شوئیگو نے کہا کہ مشرق وسطیٰ سے 16000 رضاکار یوکرین کے علیحدگی پسند علاقے ڈونباس میں لڑنے کے لیے تیار ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں