روس اور یوکرین

امریکی اور چینی صدور کا یوکرین بحران پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ نے یوکرین کی جنگ پر مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ دوسری طرف امریکا روس کی حمایت کے لیے چین کو کسی بھی گہری مصروفیت سے روکنے کی کوشش کررہا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق جمعے کے روز دونوں رہ نماؤں کے درمیان فون پر بات چیت ہوئی۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب بیجنگ ماسکو کے ساتھ اپنے اتحاد کو ترک کیے بغیر یوکرین کے بحران کو مزید بگڑنے سے روکنے میں مدد کے لیے خود کو بے چین ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

امریکی انتظامیہ کے عہدیداروں نے واضح کیا ہے کہ بائیڈن چینی صدر کو یہ پیغام دینے کی تیاری کر رہے ہیں کہ اگر بیجنگ کی حمایت الفاظ سےنکل کر عملی شکل اختیار کرتی ہے تو اس کے نتائج برآمد ہوں گے۔

انتباہی پیغام

سکریٹری آف اسٹیٹ انٹنی بلنکن نے جمعرات کو کہا کہ بائیڈن واضح کریں گے کہ چین روسی حملے کی حمایت کرنے کے لیے کسی بھی اقدام کی ذمہ داری قبول کرے گا۔

امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان کے اس پیغام سے ملتا جلتا ہے جو خارجہ امور کے اعلیٰ عہدیدار یانگ جیچی کو بھیجا گیا تھا۔ جسے امریکی حکام نے گذشتہ پیر کو روم میں دن بھر جاری رہنے والی میٹنگ کے طور پر بیان کیا تھا۔

چینی حکومت کے قریبی خارجہ پالیسی کے ماہرین کے مطابق شی کے بائیڈن کے ساتھ جمعہ کی کال کے دوران چین کو تنازع میں ایک غیر جانبدار فریق کے طور پر پیش کرنے کا امکان ہے۔چین ایک ایسے فریق کے طور پرکام کرسکتا ہے جو یوکرین کے بحران کو حل کرنے کے لیے مذاکرات میں سہولت فراہم کر سکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری جین ساکی نے جمعرات کو کہا کہ یہ صدر بائیڈن کے لیے صدر شی کا موقف سمجھنے کا ایک موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ روس جو کچھ کر رہا ہے چین نے اس کی مذمت نہیں کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں