روس کو یوکرین میں متعدد دھچکوں کا سامنا کرنا پڑا : امریکی وزیر دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یوکرین میں روس کا فوجی آپریشن آج 24 ویں روز میں داخل ہو چکا ہے۔ بین الاقوامی انٹیلی جنس رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ روس ابھی تک یوکرین کے بڑے شہروں پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے باور کرایا ہے کہ روس کو یوکرین میں متعدد دھچکوں کا سامنا ہے۔ بلغاریا کے دارالحکومت میں موجود آسٹن کا یہ موقف امریکی نیوز چینل CNN کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سامنے آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "روسی افواج اس تیزی سے پیش قدمی نہیں کر سکیں جس کی انہیں خواہش تھی۔ روس نے یہ خیال کر لیا تھا وہ دارالحکومت پر قبضے کے لیے بہت تیزی سے پیش قدمی کرے گا تاہم وہ اس میں کامیاب نہیں ہوا"۔

امریکی وزیر دفاع کے مطابق روسی افواج کو لوجسٹک سپورٹ کی مشکل کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "اس حوالے سے فضائی صلاحیت زمینی کارروائیوں کے ساتھ مربوط نہیں رہی"۔

بیجنگ کی جانب سے ماسکو کے لیے فوجی یا اقتصادی سپورٹ کے امکان پر تبصرہ کرتے ہوئے آسٹن کا کہنا تھا کہ یہ جاننا مشکل ہے کہ چین کیا کرے گا۔ امریکی وزیر نے اس حوالے سے کسی بھی قیاس آرائی کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ چین روسی فوجی آپریشن کو سپورٹ نہیں کرے گا اور ملکوں کی خود مختاری کا احترام کیا جائے گا۔

یوکرین کی فضائی حدود میں ہوابازی پر پابندی کے حوالے سے کیف حکومت کے مطالبے پر آسٹن کا کہنا تھا کہ یہ خارج از امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن واضح کر چکے ہیں لہذا امریکا کسی بھی صورت روس کے ساتھ جنگ میں داخل نہیں ہو گا"۔ آسٹن کا موقف اس جانب اشارہ تھا کہ فضائی حدود میں ہوابازی پر پابندی کا مطلب مغرب کو روس کے ساتھ براہ راست مقابلے پر لا کھڑا کرنا ہے اور اس کے نتیجے میں جنگ کا دائرہ ایسا وسیع ہو گا جس کے بھیانک نتائج کا تصور نہیں کیا جا سکتا ہے۔

آسٹن نے باور کرایا کہ "روس اور امریکا دو جوہری ممالک ہیں ، ان میں سے کوئی بھی نہیں چاہتا کہ دونوں ممالک کسی تنازع میں داخل ہوں. یہ خطے اور دنیا کے لیے اچھا نہیں ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں