چین میں مسافر طیارہ پہاڑی علاقے میں گرکرتباہ؛132 افراد کی ہلاکت کا خدشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

چائنا ایسٹرن ایئرلائنز کا ایک مسافر جیٹ پیر کے روزچین کےجنوب میں واقع پہاڑی علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا ہے۔اس میں 132 افراد سوار تھے۔ ان تمام کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔طیارہ کنمنگ شہر سے گوانگ ژو جارہا تھا۔

سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی نے بتایا ہے کہ ’’حادثے کا شکار ہونے والاجیٹ بوئنگ 737 طیارہ تھا اور ہلاکتوں کی تعداد کا فوری طور پر پتا نہیں چل سکا‘‘۔امدادی ٹیمیں جائے حادثہ پرامدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔فوری طور پر حادثے کی کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی ہے۔

فلائٹ ریڈار24 کے مطابق یہ طیارہ 6 سال پرانا طیارہ تھا۔چائنا ایسٹرن ایئرلائنز نے ایک بیان میں طیارہ کے حادثے کی تصدیق کی ہے اور اس میں میں سوار افراد کے لواحقین کے لیے ایک ہاٹ لائن کی تفصیل بھی دی ہے۔

چین کی سول ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (سی اے اے سی) اور ایئرلائن نے بتایا کہ طیارے میں 123 مسافراور عملہ کے نوارکان سوار تھے۔پرواز کے دوران میں اس کا ووژو شہر سے رابطہ ختم ہو گیا تھا۔

مقامی میڈیا نے ایک ریسکیو عہدہ دار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ طیارہ پہاڑی علاقے میں گرنے کے بعد کئی ٹکڑوں میں بٹ گیا ہے اور اس کا ملبہ بکھرا پڑا ہے۔ حادثے کے نتیجے میں لگنے والی آگ سے بانس اوردوسرے درخت جل گئے ہیں۔سوشل میڈیا پر اس کی فوٹیج بھی جاری کی گئی ہے۔

فلائٹ ریڈار کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والی پرواز چین کے جنوب مغربی شہر کنمنگ سے دوپہر ایک بج کر11 منٹ (0511) پرروانہ ہوئی تھی اور اس نے جنوبی ساحلی شہر گوانگ ژو میں 3:05 بجے(0705 جی ایم ٹی) پر اترنا تھا۔

فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق طیارہ 0620 جی ایم ٹی پر 29,100 فٹ کی بلندی پرمحوپرواز تھا۔ صرف دو منٹ اور 15 سیکنڈ کے بعد، اگلے دستیاب اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ یہ 9,075 فٹ تک اتر گیا تھا۔مزید 20 سیکنڈ میں اس کی آخری ٹریک کی گئی اونچائی 3225 فٹ تھی۔

اس حادثے کی خبرمنظرعام پرآنے کے بعد ہانگ کانگ میں چائنا ایسٹرن ایئرلائنز کے حصص کی قیمتوں میں 6.5 فی صد کمی ہوئی ہے جبکہ اس کے آن شور حصص کی قیمتوں میں 2.2 فی صد اضافہ ہوا ہے۔

ہوابازی کے اعداد و شمار فراہم کرنے والی کمپنی او اے جی نے رواں یہ اطلاع دی تھی کہ سرکاری ملکیتی چائنا ایسٹرن ایئرلائنزمقررہ ہفتہ وار نشستوں کی گنجائش کے لحاظ سے دنیا کی چھٹی سب سے بڑی اور چین میں سب سے بڑی کمپنی ہے۔

بین الاقوامی پروازوں پر سخت روک لگانے کے باوجود چین میں کروناوائرس کی وَبا کے دوران میں اندرون ملک ہوا بازی صنعت فعال رہی ہے اور یہ کسادبازی کا شکار نہیں ہوئی ہے۔چین کی فضائی صنعت کا حفاظتی ریکارڈ گذشتہ ایک دہائی کے دوران میں دنیا میں بہترین رہا ہے۔

ایوی ایشن سیفٹی نیٹ ورک کے مطابق چین کاآخری مہلک جیٹ حادثہ 2010 میں پیش آیا تھا جب ہینان ایئرلائنزکا ایمبرایرای 190 ریجنل جیٹ کم نظری کی وجہ سے یچون ہوائی اڈے کے قریب گرکرتباہ ہوگیا تھا۔اس میں سوار 96 میں سے 44 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

پیر کو گرنے والے 737-800 ماڈل کا حفاظتی ریکارڈ بہترین ہے اور یہ 737 میکس ماڈل کا پیش رو ہے۔اس کو انڈونیشیا میں 2018ء اور 2019 میں ایتھوپیا میں مہلک حادثات پیش آئے تھے۔اس کے بعد تین سال سے زیادہ عرصے سے چین میں اس کو گراؤنڈ کردیا گیا ہے۔

ایوی ایشن سیفٹی نیٹ ورک کے مطابق 1994 میں ژیان سے گوانگ ژو جانے والی چائنا نارتھ ویسٹ ایئرلائنز کی پرواز ٹوپولیو ٹی یو-154 اڑان بھرنے کے بعد ایک حادثے میں تباہ ہو گئی تھی۔اس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام 160 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔اس کو اب تک چین میں بدترین فضائی حادثہ قرار دیا گیاہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں