روس اور یوکرین

روس امریکا پر سائبر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے: جوبائیڈن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ کے پاس انٹیلی جنس معلومات ہیں کہ روس امریکا پر سائبر حملے کرے گا۔ ایک اور تناظر میں اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس بات کے واضح اشارے مل رہے ہیں کہ روسی صدر ولادیمیر پوتین حیاتیاتی اور کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر غور کر رہے ہیں۔

بائیڈن نے پیر کے روز کہا کہ روسی الزامات کہ کیف کے پاس حیاتیاتی اور کیمیائی ہتھیار ہیں غلط اور بے بنیاد ہے۔ان کا کہنا تبا کہ پوتین یوکرین کے خلاف اپنی جنگ میں ان کے استعمال پر غور کر رہے ہیں۔

بائیڈن نے اپنی بات کے ثبوت کا حوالہ نہیں دیا

بائیڈن نے (بزنس راؤنڈ ٹیبل) ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ایک تقریب میں مزید کہا کہ پوتین دیوار کے سامنے آ گئے ہیں اور اب وہ نئے کمزور دلائل کے بارے میں بات کر رہے ہیں، جس میں یہ دعویٰ بھی شامل ہے کہ امریکا میں ہمارے پاس یورپ میں حیاتیاتی اور کیمیائی ہتھیار موجود ہیں۔ایسا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ یوکرین کے پاس حیاتیاتی اور کیمیائی ہتھیار ہیں۔ یہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ وہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر غور کر رہا ہے۔

سائبر حملے

اس کے علاوہ بائیڈن نے امریکی کمپنیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ یوکرین میں ان کی فوجی کارروائی کی وجہ سے ان پر عائد مغربی پابندیوں کے جواب میں ممکنہ روسی سائبر حملوں سے خود کو محفوظ رکھیں۔

صدر نے وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ میں اپنے نجی شعبے کے شراکت داروں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنے سائبر دفاع کو فوری طور پر مضبوط کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ میری حکومت بڑھتی ہوئی انٹیلی جنس کی بنیاد پر ان انتباہات کا اعادہ کرتی ہے کہ روسی حکومت ممکنہ سائبر حملوں کے آپشنز پر غور کر رہی ہے۔

انہوں نے سائبر حملوں کو "روس کے رویے کا حصہ" قرار دیا۔

بائیڈن نے زور دے کر کہا کہ ان کی حکومت زیادہ ٹولز کو روکنے، رکاوٹ ڈالنے کے لیے اقدامات کرے گی۔ اگر ضروری ہو تو اہم انفراسٹرکچر کے خلاف سائبر حملوں کا جواب دینے کے لیے تمام اقدامات کریں گے۔

لیکن انہوں نے توجہ دلائی کہ ملک میں سب سے زیادہ اہم انفراسٹرکچر نجی اداروں کی ملکیت اور چلایا جاتا ہے جنہیں سائبر سیکیورٹی کے مخصوص اقدامات کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

مالکان اور آپریٹرز کو اپنے ڈیجیٹل دروازوں کو سیل کرنے کی کوششوں کو تیز کرنا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں