روس اور یوکرین

چیچن فوج نے ماریوپول سٹی ہال کو’آزاد‘ کرا لیا:رمضان قدیروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روس کی خودمختارجمہوریہ چیچنیا کے صدر رمضان قدیروف نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی فوج نے یوکرین کی محصور جنوب مشرقی بندرگاہ ماریوپول کے سٹی ہال کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اوروہاں روسی پرچم لہرا دیا ہے۔

قدیروف نے ٹیلی گرام پر چیچن زبان میں ایک فون ریکارڈنگ کی ویڈیو پوسٹ کی جس میں انھوں نے کہا کہ روسی پارلیمان کے قانون سازآدم دیلم خانوف ’’ہمارے بہادر آدمیوں‘‘سے بات کر رہے تھے۔

چیچن رہنما نے اپنے ٹیلی گرام پرکہا کہ ’’یہ لوگ ریڈیو پر یہ کہہ رہے ہیں کہ انھوں نے ماریوپول حکام کی عمارت کو آزاد کرالیا ہےاوراس پر ہمارا پرچم لگادیا ہے‘‘۔اس کے صارفین کی تعداد 14 لاکھ سے زیادہ ہے۔

انھوں نے یوکرین کی انتہائی دائیں بازو کی ازوف بٹالین کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’’دیگر یونٹ شہر کے متوازی طور پرآگے بڑھ رہے ہیں اوراسے ’ازوف گندگی‘ سے پاک کر رہے ہیں‘‘۔یوکرینیوں کے لیے ان کے الفاظ کا ترجمہ یہ ہے:’’جو ڈاکو زندہ رہے،انھوں نے اس کا خطرہ مول نہیں لیا اور اپنے عہدے چھوڑ دیے ہیں‘‘۔ان کا اشارہ ازوف بٹالین کی طرف تھا۔

انھوں نے لکھا کہ ’’خدا نے چاہا تو جلد ہی ماریوپول کو مکمل طور پرپاک کر دیا جائے گا‘‘۔

یوکرین کے صدر ولودیمیرزیلنسکی کا کہنا ہے کہ محصور جنوبی بندرگاہ میں قریباً ایک لاکھ افراد خوراک، پانی یا بجلی کے بغیرپھنسے ہوئے ہیں اور روسی افواج کی شدید گولہ باری کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

دریں اثناء یوکرین کی وزارتِ خارجہ نے ٹویٹ کیا ہے کہ ماسکو نے قریباً 6000 باشندوں کو زبردستی روسی کیمپوں میں بھیج دیا ہے اور اس طرھح نے اس نے ماریوپول کے خلاف دہشت گردی کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہے۔

قبل ازیں رمضان قدیروف نے یکم مارچ کو کہا تھا کہ ماسکو کے یوکرین پرحملے میں بعض چیچن مارے گئے ہیں۔انھوں نے ٹیلی گرام پربتایا کہ دوافراد ہلاک اورچھے زخمی ہوئے ہیں۔ان میں بعض شدید اور بعض معمولی زخمی ہیں۔انھوں نے یوکرین میں روسی فوج کے ساتھ جانے والے چیچن جنگجوؤں کی بعض ویڈیوزبھی پوسٹ کی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں