آسکر ایوارڈ گالا میں ول سمتھ نے میزبان راک کو زناٹے دار تھپڑ رسید کر دیا

پہلی مرتبہ آسکر ایوارڈ سنیما کے بجائے اسٹریمنگ سروس پر ریلیز فلم کے حصے میں آیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

فلمی دنیا کا سب سے بڑا آسکر ایوارڈ پہلی بار ایسی فلم نے جیت لیا جو سنیما کی بجائے ایک اسٹریمنگ سروس پر ریلیز ہوئی تھی۔

ویسے تو خیال کیا جارہا تھا کہ نیٹ فلیکس پر ریلیز ہونے والی فلم دی پاور آف دی ڈاگ بہترین فلم کا ایوارڈ اپنے نام کرے گی مگر غیر متوقع طور پر یہ اعزاز ایپل ٹی وی پلس پر ریلیز ہونے والی فلم کوڈا نے اپنے نام کرکے نئی تاریخ رقم کی۔

94 ویں اکیڈمی ایوارڈز کی تقریب میں قوت سماعت سے محروم ماں باپ اور بھائی جبکہ سننے کی صلاحیت رکھنے والی بیٹی/ بہن کے ان سے تعلقات کے گرد گھومتی اس فلم نے بہترین فلم کا آسکر ایوارڈ جیتا۔ اس فلم کو 3 شعبوں میں نامزد کیا گیا تھا اور اس نے تینوں کو اپنے نام کیا۔

بہترین فلم کے ساتھ ساتھ بہترین اڈاپٹڈ اسکرین پلے اور بہترین معاون اداکار (ٹروئے کوٹسر) کے ایوارڈز اس فلم نے جیتے۔ مگر سب سے زیادہ ایوارڈز سائنس فکشن فلم ڈیون نے اپنے نام کیے جو کہ اسے ٹیکنیکل کیٹیگریز جیسے ساؤنڈ، اسکور اور ایڈیٹنگ پر ملے۔

امریکی اداکار ول سمتھ نے ٹینس بائیوپک ’کنگ رچرڈ‘ جبکہ جیسیکا چیسٹین نے ’دی آئیز آف ٹیمی فائے‘میں بہترین اداکاری پر آسکر ایوارڈ اپنے نام کیا۔ لاس اینجلس میں منعقدہ تقریب میں ول سمتھ نے ٹینس بائیوپک ’کنگ رچرڈ‘ میں وینس اور سرینا ولیمز کے والد رچرڈ کا کردار نبھانے کے لیے بہترین اداکار کا آسکر جیت لیا ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے ’’اے ایف پی‘‘ نے سمتھ کے حوالے سے بتایا کہ ’رچرڈ ولیمز اپنے خاندان کے ایک زبردست محافظ تھے۔ فن زندگی کی نقل ہے۔ میں پاگل باپ کی طرح دکھتا ہوں جیسا کہ انہوں نے کہا، جیسا کہ وہ رچرڈ ولیمز کے بارے میں کہتے ہیں۔ لیکن محبت آپ کو پاگل پن پر مجبور کر دیتی ہے۔‘

آسکر اپنے نام کرنے سے کچھ ہی دیر پہلے سمتھ نے گالا میں سٹیج پر جا کر میزبان راک کو تھپڑ رسید کیا تھا جنہوں نے اداکار کی اہلیہ جاڈا پنکیٹ سمتھ کا مذاق اڑایا تھا۔ سمتھ نے اپنی تقریر کے اختتام میں کہا کہ ’میں امید کر رہا ہوں کہ اکیڈمی مجھے واپس بلائے گی۔‘ سمتھ نے جیویر بارڈیم (’بیئنگ دی ریکارڈوس‘)، بینیڈکٹ کمبر بیچ (’دی پاور آف دی ڈاگ‘)، اینڈریو گارفیلڈ (’ٹک، ٹک...بوم!‘) اور ڈینزیل واشنگٹن (’دا ٹریجڈی آف میکبیتھ) کو شکست دی ہے۔

جیسیکا چیسٹین نے بہترین اداکارہ کا آسکر ایوارڈ اپنے نام کیا ہے، انہیں یہ انعام ’دی آئیز آف ٹیمی فائے‘ میں ایک امریکی ٹیلی ویژنلسٹ کا کردار نبھانے پر دیا گیا ہے۔ فلم کی کہانی ٹیمی فائی کی زندگی کے گرد گھومتی ہے جس نے 1980 کی دہائی میں بدنام ہونے سے پہلے اپنے شوہر جم بیکر کی ایک منافع بخش میڈیا سلطنت بنانے میں مدد کی۔ انہوں نے بیکر کو طلاق دے دی اور ایل جی بی ٹی کیو کمیونٹی کے لیے ایک ممتاز اور ہمدرد چیمپئن بن گئیں۔

ایوارڈ وصول کرنے کے بعد چیسٹین نے کہا کہ ’ایسے موقع پر میں ٹیمی کے بارے میں سوچتی ہوں۔ میں ان کی شفقت سے متاثر ہوں اور میں اسے ایک رہنما اصول کے طور پر دیکھتی جو ہمیں آگے لے جاتا ہے۔‘ سماعت سے محروم خاندان کی کہانی پر مبنی’کوڈا‘نے بہترین فلم کا ایوارڈ جیت لیا ہے۔ لیڈی گاگا اور لیزا منیلی نے فلم کو ایوارڈ پیش کیا جس کی کہانی نوعمر روبی کے گرد گھومتی ہے جو سن سکتی ہے۔

پاکستان کےلیے یہ ایوارڈز ایک بار پھر یادگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ لاریب عطا جو کہ معروف لوگ گلوکار عطا اللہ عیسی خیلوی کی بیٹی ہیں، ویژول ایفیکٹس کی کیٹیگری میں اپنی ٹیم کے ساتھ جیمز بانڈ فلم "نو ٹائم ٹو ڈائے‘ کے لیے نامزد ہیں۔ ان سے پہلے شرمین عبید چنائے دو مرتبہ دستاویزی فلم کی کیٹیگری میں آسکر جیت چکی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں