بلینکن کی یواے ای کے حقیقی لیڈرسے ملاقات؛تیل،ایران اوریوکرین بحران ایجنڈے میں سرفہرست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلینکن منگل کو مراکش میں متحدہ عرب امارات کے حقیقی حکمران،ابوظبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے ملاقات کررہے ہیں۔وہ ان سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی رسد اور قیمت، ایران اور یوکرین بحران پرتبادلہ خیال کریں گے تاکہ واشنگٹن کے روایتی خلیجی اتحادیوں کے ساتھ اختلافات کو کم کیا جاسکے۔

ان کی ابوظبی کے ولی عہد کے ساتھ ملاقات خطے کے دورے میں سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔انھوں نے اس دورے میں خلیجی ممالک میں قیام کیا ہے اور نہ سعودی حکام کے ساتھ بات چیت ان کی مصروفیات میں شامل تھی۔

بلینکن نے قبل ازیں ایک بیان میں کہا کہ شیخ محمد کے ساتھ ملاقات میں انھیں ’’تزویراتی‘‘ نوعیت کی گفتگو کا موقع ملے گا۔واشنگٹن کے عرب اتحادی یمن، عراق، شام اور لبنان میں ایران کی مداخلت کے پیش نظراپنے خطے میں سلامتی کے حوالے سے امریکی عزم میں کمی پر مشوش ہیں اور اسی سبب انھوں اپنے سابق دشمن اسرائیل کے ساتھ سلسلہ جنبانی شروع کیا تھا اوراب وہ اپنے مشترکہ دشمن ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول اور خطے میں مداخلت سے روکنے کے لیے حکمت عملی ترتیب دے رہے ہیں۔

بلینکن نے اسی اختتام ہفتہ پراسرائیل اورعرب ممالک کے اپنی نوعیت کے پہلے اجلاس میں شرکت کی تھی۔اس میں انھوں نے متحدہ عرب امارات ،بحرین اور مراکش کے وزرائے خارجہ کے ساتھ خطے میں قیام امن پراتفاق کیا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وزیرخارجہ بلینکن مراکش میں شیخ محمد کے ساتھ بات چیت میں یواے ای اور سعودی عرب دونوں کی تزویراتی اہمیت پر زوردیں گے۔وہ ایران، یمن، توانائی کی عالمی منڈیوں کی صورت حال اور شام کے ساتھ متحدہ عرب امارات کی حالیہ مفاہمت پر تبادلہ خیال کریں گے۔

دریں اثناء متحدہ عرب امارات کے وزیرتوانائی سہیل المزروئی نے کہا ہےکہ’’ہمیں توانائی کے مقصد پرغور کرنے کی ضرورت ہے اورہم جومانگ رہے ہیں، وہ یہ نہیں کہ ہمیں یہ بتایا جائے کہ ایسا کریں یا ویساکریں‘‘۔انھوں نے کہا کہ امریکا ہم سب کے لیے بہت اہم شراکت دار ہے اور ہمیں ان تعلقات پربہت فخر ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں عملیت پسندی کی ضرورت ہے۔

یوکرین کی امداد

امریکاچاہتا ہے کہ اس کے عرب اتحادی اقوام متحدہ میں اس کا ساتھ دیں۔وہ مغربی پابندیوں میں شامل ہو کر یا یوکرین کو سکیورٹی کی مد میں امداد بھیج کرروس کے خلاف سخت مؤقف اختیار کریں۔

متحدہ عرب امارات نے گذشتہ ماہ یوکرین بحران پراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کردہ قرارداد پر رائے شماری میں حصہ نہیں لیا تھا اور مراکش نے جنرل اسمبلی میں ایک اور غیرپابند قراردادپرووٹ سے لاتعلقی ظاہرکی تھی۔یو اے ای اور سعودی عرب دونوں کے روس کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعلقات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

امارات کے سینئرعہدہ دار انورقرقاش نے ایک بیان میں کہا کہ لوگوں کا خیال تھا کہ فوسل ایندھن کی موت تھوڑا قبل از وقت ہورہی ہے جبکہ توانائی مشرق اوسط کے بہت سے لوگوں اور درحقیقت عالمی مباحثوں میں ایک اہم موضوع کے طور پرایک مرتبہ پھر واپس آرہی ہے۔

خلیجی ریاستیں برسوں سے اس بات پر مایوس کا اظہارکررہی ہیں کہ امریکا خطے میں ایران کے کردار کا مقابلہ کرنے میں غیرفعال ہوچکا ہے جبکہ 14 ماہ قبل جو بائیڈن کے صدر بننے کے بعد سے ان کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

وہ ایران کے ساتھ ممکنہ نئے جوہری معاہدے کے اثرات سے پریشان ہیں اور اس بات سے نالاں ہیں کہ واشنگٹن نے یمن میں ان کی جنگ کی حمایت ختم کردی ہے۔اس نے خلیجی ریاستوں کو ہتھیاروں کی فروخت پر نئی شرائط بھی عاید کردی ہیں اوران کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات دونوں کویہ تشویش لاحق ہے کہ امریکا کی جانب سے صرف ایران کے جوہری پروگرام پرمعاہدے پر زور دینے سے اس کے میزائل پروگرام یا اس کے علاقائی آلہ کاروں کے کردارسے نمٹا نہیں جا سکے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں