جانسن کی زیلنسکی سے ملاقات، یوکرین کے دارالحکومت کا دورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کل ہفتے کے روز جنگ زدہ ملک یوکرین کا دورہ کیا جہاں انہوں نے کیف میں یوکرینی صدر ولادی میر زیلنسکی سے ملاقات کی اور ان کے ہمراہ دارالحکومت کا دورہ بھی کیا۔اس موقعے پر انہوں نے اعلان کیا کہ لندن یوکرین کے لیے ایک نیا مالی اور فوجی امدادی پیکج تیار کر رہا ہے۔

جانسن نے کہا کہ یہ امدادی پیکج اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے ملک نے فروری کے اواخر سے روس کے خلاف اور یوکرین کی حمایت کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

جانسن نے ٹویٹر پر کہا کہ انہوں نے کیف میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کی تاکہ وہ اپنے ملک کے لیے اپنی "غیر متزلزل حمایت" ظاہر کریں۔

قبل ازیں یوکرینی ایوان صدر نے ہفتے کے روز اطلاع دی تھی کہ برطانوی وزیر اعظم جانسن یوکرین کے دارالحکومت کیف پہنچے اور یوکرائنی صدر زیلنسکی سے ملاقات کی۔

اے ایف پی کے مطابق یوکراینی صدر کے معاون آندرے سبیہا نے فیس بک پر ان دونوں کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ جانسن کا دورہ کیف کے دوران ان کی زیلنسکی کے ساتھ دو طرفہ ملاقات سے شروع ہوا ہے۔

ڈاؤننگ اسٹریٹ نے اعلان کیا کہ برطانوی وزیر اعظم یوکرینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کیف گئے ہیں۔

لندن نے کہا کہ جانسن زیلنسکی کے ساتھ یوکرین کو مزید دفاعی اور مالی امداد بھیجنے پر بات کر رہے ہیں۔

یوکرین میں روسی فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد کسی مغربی اہلکار کا کیف کا یہ سب سے بڑا دورہ ہے۔

بدھ کے روزبرطانیہ نے کئی روز قبل یوکرین کے دارالحکومت سے روسی افواج کے انخلاء سے قبل کیف کے آس پاس ہونے والی خلاف جنگی ورزیوں اور لاشوں اور اجتماعی قبروں کی مذمت کی ہے۔

وزیر اعظم جانسن نے بدھ کے روز کہا کہ کیف کے شمال مغرب میں بوچا اور یوکرین کے دیگر قصبوں میں جو کچھ ہوا، وہ نسل کشی کے مترادف تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں