یمن اور حوثی

صنعاء: حوثیوں نے سرپرست کی اجازت کے بغیر عورت کے سفر پر پابندی لگا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یمن میں ایران نواز حوثی ملیشیا کے زیر قبضہ علاقوں میں مقامی خواتین کو پے در پے پابندیوں کا سامنا ہے۔ حوثی ملیشیا نے حال ہی میں اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں زمینی ٹرانسپورٹ کی کمپنیوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ صنعاء صوبے سے ملک کے کسی بھی دوسرے صوبے کا سفر کرنے والی یمنی خواتین کے لیے ان کے سرپرست کی رضامندی لازم ہو گی۔

ٹرانسپورٹ کمپنی کے ذرائع کے مطابق خاتون کے تنہا سفر کرنے کے لیے سرپرست کی اجازت کی شرط عائد کر دی گئی ہے۔

اگرچہ حوثیوں کی جانب سے اس خبر پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا تاہم اس نے یمنیوں میں غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ سوشل میڈیا پر یمن کے اندرون و بیرون سے یمنی حلقوں نے خواتین کے خلاف حوثیوں کی سخت گیر روش پر تنقید کی بارش کر دی۔

انسانی حقوق کی ایک یمنی خاتون کارکن نے حوثیوں کے اس نئے فیصلے کو ان کے زیر قبضہ علاقوں میں خواتین پر تنگی مسلط کرنے کی کڑی قرار دیا۔ ان کے مطابق اس سے قبل حوثی ملیشیا نے خواتین کے کام کرنے پر پابندی عائد کی، ان کو آمدنی کے ذرائع سے محروم کیا اور انہیں ملیشیا کے عقائد اور نظریات کے مطابق مقررہ رواج اور سرگرمیوں کا پابند بنایا۔

مذکورہ کارکن نے بتایا کہ اس سے قبل حوثی ملیشیا نے صنعاء یونیورسٹی کی طالبات کو ایک مخصوص نوعیت کے لباس کا پابند بنایا اور دھمکی دی کہ حوثیوں کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے والی طالبات کو بے لباس کر دیا جائے گا۔

خاتون کارکن نے باور کرایا کہ ان چیزوں کا قانون اور یمنی رواج سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ یہ دینِ حنیف اسلام کی تعلیمات کا حصہ ہیں۔ یہ اقدامات محض حوثی ملیشیا کے وہ افکار اور نظریات ہیں جو وہ عورت کی تذلیل کرنے کے واسطے استعمال کرتی ہے۔

حوثیوں کے زیر کنٹرول صنعاء صوبے میں یمنی خواتین کی صورت حال کے حوالے سے یمنی خاتون سماجی کارکن صباح العراسی کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں عورت قیدی کی مانند ہے جس کو اس کے قید کرنے والوں کی جانب سے جسمانی اور نفسیاتی طور پر استحصال کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے وحشیانہ طور طریقے کام میں لائے جاتے ہیں جن کا مذہب، عرف یا عقیدے سے کوئی تعلق نہیں۔

دوسری جانب ایک اور سماجی خاتون کارکن کا کہنا ہے کہ یمن میں جنگ سے سب سے زیادہ نقصان جس طبقے کو پہنچا وہ خواتین کا طبقہ ہے۔ بالخصوص وہ جو حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں رہتی ہیں۔ ان کے حقوق تقریبا دفن ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں