یمن کی نئی قیادت کونسل کے ارکان نے منگل کے روز سخت سکیورٹی میں اپنے مناصب کا رسمی طور پرحلف اٹھالیا ہے۔اس طرح یمن میں انتقال اقتدار کا ایک اہم مرحلہ مکمل ہوگیا ہے اور نئی کونسل ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے ساتھ گذشتہ سات سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے کردارادا کرے گی۔
ایک سرکاری عہدہ دار نے اے ایف پی کو بتایا کہ نئی تشکیل شدہ، آٹھ رکنی قیادت کونسل نے 2003 میں منتخب شدہ پارلیمان کے اراکین کے سامنے عدن میں بڑی حد تک علامتی طور پرحلف اٹھایا ہے جبکہ جنوبی شہر میں سیکڑوں فوجی گشت کر رہے تھے۔
یمن کے صدرعبدربہ منصور ہادی نے 7 اپریل کو ٹیلی ویژن پر ایک خطاب میں اپنے’’مکمل اختیارات‘‘ نئی کونسل کے حوالے کرنے کا اعلان کیا تھا۔
حلف برداری کی تقریب کا اعلان پیشگی نہیں کیا گیا تھا اور حفاظتی وجوہ کی بنا پراس کو نامعلوم مقام پر منعقد کیا گیا ہے۔اقوام متحدہ کے یمن کے لیے خصوصی خصوصی ایلچی ہانس گرنڈبرگ نے بعض یورپی اور عرب ممالک کے سفیروں کے ساتھ قیادت کونسل کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی ہے۔
واضح رہے کہ دسمبر2020 میں سرکاری حکام کی عدن کے ہوائی اڈے پرآمدکے موقع پربم حملے میں قریباً 20 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔اس وقت یمن میں مسلمانوں کے مقدس ماہ رمضان کے 2 اپریل کوآغاز سے اقوام متحدہ کی ثالثی کے نتیجے میں متحارب فریقوں کے درمیان جنگ بندی جاری ہے۔