ایران تعطل کا شکارجوہری مذاکرات میں’سرخ لکیروں‘ سے دستبردارنہیں ہوگا:وزیرخارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران 2015ء میں طے شدہ جوہری معاہدے کی بحالی کے مقصد سے امریکا کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات میں اپنی ’سرخ لکیروں‘سے دستبردارنہیں ہوگا۔

ایران کے اس مؤقف کا اعادہ وزیرخارجہ حسین امیرعبداللہیان نے شامی ہم منصب سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ہمارے اور امریکیوں کے درمیان پیغامات کا تبادلہ یورپی یونین کے ذریعے ہورہا ہے۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا کے مطابق وزیر خارجہ کہا کہ ہم نے باربار اس بات پر زوردیا ہے کہ ایران امریکا کے ضرورت سے زیادہ پیش کردہ مطالبات پر توجہ نہیں دیتا اور اپنی سرخ لکیروں سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔

امیرعبداللہیان نے کہا کہ سفارت کاری کا راستہ اچھی طرح کام کر رہا ہے اور ہم کسی اچھے اور پائیدار معاہدے تک پہنچنے سے زیادہ دورنہیں ہیں۔

امریکا اور ایران ویانا میں بالواسطہ مذاکرات میں ایک سال سے مصروف ہیں۔ان کا مقصد ایران اور چھے عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے کی بحالی ہےجسے سابق صدرڈونالڈ ٹرمپ نے 2018 میں ترک کر دیا تھا۔

یہ بات چیت گذشتہ ماہ سے اب تک مبیّنہ طور پر ایران کے اس مطالبے پر تعطل کا شکار ہے کہ اس کی سپاہ پاسداران انقلاب کو امریکا کی غیرملکی دہشت گرد تنظیموں (ایف ٹی او) کی فہرست سے حذف کیا جائے۔

امریکا نے 2019ء میں سابق صدرٹرمپ کے دورمیں پاسداران انقلاب کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔ٹرمپ نے 2018 میں جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا تھا اور ان کی انتظامیہ نے تہران پر دوبارہ وسیع ترپابندیاں عایدکر دی تھیں اور کہا تھا کہ یہ معاہدہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور علاقائی سرگرمیوں سے نمٹنے میں ناکام رہا ہے اور اس سے ایران کا جوہری ہتھیاروں کا راستہ نہیں روکا جا سکا۔

ایران اس بات پرمُصر ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے جبکہ اس نے گذشتہ دو ایک سال میں اپنے جوہری پروگرام میں توسیع کرتے ہوئے معاہدے کی بیشتر پابندیوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں