جوہری ایران

ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ پابندیوں کے خاتمے کی ضمانت نہیں دیتا: واشنگٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکا نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اگر ایران 2015 کے ایرانی جوہری سمجھوتے میں طے شدہ پابندیوں سے ہٹ کر پابندیوں میں نرمی کرنا چاہتا ہے تو اس کے واضح اشارے میں پاسداران انقلاب کو امریکی دہشت گردی کی فہرست سے خارج کرنا ہو گا۔ اسے معاہدے میں امریکی خدشات کو دور کرنا ہو گا۔

اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان نے کہا کہ ہم عوامی سطح پر بات چیت نہیں کریں گے لیکن اگر ایران جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (جوہری معاہدے) سے کہیں زیادہ پابندیاں ہٹانا چاہتا ہے تو اسے ہمارے ان خدشات کو دور کرنا چاہیے جواس معاہدے کے تحت آگے پیش آئیں گے۔

اس کے برعکس اگر وہ ان مذاکرات کو JCPOA سے باہر دیگر دو طرفہ مسائل کو حل کرنے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں یقین ہے کہ ہم جلد ہی اس منصوبے پر سمجھوتہ کر سکتے ہیں اور معاہدے پر دوبارہ عمل درآمد شروع کر سکتے ہیں۔ ایران کو چاہیے کہ ایک فیصلہ کریں۔

امریکی ترجمان ایک سینیر ایرانی اہلکار کا جواب دے رہے تھے جنہوں نے کہا تھا کہ ایران 2020 میں قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے امریکی قتل کا بدلہ لینے کے اپنے منصوبوں کو ترک نہیں کرے گا حالانکہ واشنگٹن کی جانب سے پابندیاں ہٹانے اور اس کے بدلے میں دیگر رعایتیں دینے کی "باقاعدہ پیشکش کی گئی ہے۔

قدس فورس ایرانی پاسداران انقلاب کی غیر ملکی جاسوسی یونٹ اور نیم فوجی دستہ ہے جو بیرون ملک اتحادی ملیشیاؤں کو کنٹرول کرتی ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے 2019 میں محکمہ خارجہ کی غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں ایرانی پاسداران انقلاب کو شامل کیا۔ یہ پہلا موقع ہے جب واشنگٹن نے باضابطہ طور پر کسی دوسرے ملک کی فوج کو دہشت گرد گروپ کے طور پر نامزد کیا تھا۔

ایک سینیر اسرائیلی اہلکار نے بدھ کے روز انکشاف کیا تھا کہ امریکی انتظامیہ کے حکام نے اپنے یورپی ہم منصبوں کو مطلع کیا ہے کہ واشنگٹن آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں ہونے والے جوہری مذاکرات کے ایک حصے کے طور پر ایرانی پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکالنے کا ارادہ نہیں رکھتا ہے۔

ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق انہوں نے کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ اب بھی ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک حصے کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکالنے پر غور کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری مذاکرات اس وقت تعطل کا شکار ہیں جس کی بڑی وجہ تہران کا یہ مطالبہ ہے کہ واشنگٹن پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکال دے۔

مقبول خبریں اہم خبریں