سعودی عرب کی معیشت تاریخ میں پہلی بار10کھرب ڈالر سے تجاوزکرجائے گی:آئی ایم ایف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کی پیشین گوئی کے مطابق 2022ء میں سعودی عرب کی معیشت کا حجم دس کھرب (ایک ٹریلین) ڈالر سے تجاوزکرجائے گا اور یہ ایک سال میں اس کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوگا۔

سعودی جنرل اتھارٹی برائے شماریات کے اعدادوشمار سے پتاچلتا ہے کہ 2022 کی پہلی سہ ماہی کے دوران میں مملکت کی معیشت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اوریہ 2011 کے بعد کسی ایک سہ ماہی میں سب سے زیادہ شرح نمو سے بڑھی ہے۔

ادارے کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں سعودی معیشت کی شرح نمو 9.6 فی صد رہی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق پہلی سہ ماہی کے دوران میں سعودی عرب میں تیل کی سرگرمی میں 20.4 فی صد اور غیر تیل کی سرگرمی میں 3.7 فی صد اضافہ ہوا۔

اس سے قبل اپریل میں آئی ایم ایف نے سعودی عرب کے لیے اپنی اقتصادی پیشین گوئی میں ترمیم کی تھی جس میں 2.8 فی صد اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا جواوپیک پلس کے معاہدے کے مطابق تیل کی زیادہ پیداوار کی عکاسی کرتا ہے اور اس کوغیرتیل کے شعبے میں توقع سے زیادہ مضبوط نمو سےتقویت ملی ہے۔

بلومبرگ الشرق نے بدھ کے روز آئی ایم ایف کے حوالے سے خبردی ہے کہ ’’ہم نے سعودی معیشت کی شرح نمو کے بارے میں اپنے تخمینے 2.8 فی صد پوائنٹس تک بڑھا دیے ہیں جواوپیک پلس معاہدے کے مطابق تیل کی پیداوار میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔نیز توقعات سے زیادہ غیرتیل معیشت کی نمو میں بھی اضافہ ہوا ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں