مصر میں دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ عراق وشام [داعش] سے منسلک تنظیم نے سویز نہر کے قریب ایک واٹر پمپنگ اسٹیشن پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے جس میں کم از کم 11 مصری فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔
مصری فوج کے مطابق ہفتے کے روز ہونے والے اس حملے میں کم از کم پانچ فوجی زخمی بھی ہوئے تھے۔ یہ حملہ حالیہ سالوں میں مصری فوج پر ہونے والا سب سے جان لیوا حملہ ہے۔
مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے حملے کے بعد فوج کی سپریم کونسل کے اجلاس کی صدارت کرتےہوئے فوج کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ حملے کے ممکنہ اثرات سے متعلق ملاقات کی۔
داعش کے ابلاغی ادارے اعماق نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹیلی گرام پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا۔ آزاد ذرائع سے اس بیان کی تصدیق نہیں ہو سکی مگر گروپ اس سے قبل بھی دہشت گرد کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے لئے انہی ذرائع کو استعمال کرتا رہا ہے۔
مصری فوج پر یہ حملہ سویز نہر کے کنارے پر موجود قنطارہ قصبے میں کیا گیا جو کہ اسماعیلیہ صوبے میں واقع ہے۔
-
سعودی عرب کی طرف سے مصر میں دہشت گرد حملے کی شدید مذمت
سعودی عرب نے مصر میں دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی ہے جس میں مغربی سیناء میں واٹر ...
بين الاقوامى -
مصر:انتہا پسندوں کے حملے میں گیارہ فوجی ہلاک
مصر کے شورش زدہ علاقے جزیرہ نماسیناء سے متصل نہرسویززون میں دہشت گردی کے حملے میں ...
مشرق وسطی -
مصر : سیناء میں داعش تنظیم کے خطرناک کمانڈروں کا صفایا
مصری حکام کی جانب سے سیناء کے علاقے کو داعش تنظیم کی باقیات سے پاک کرنے کا سلسلہ ...
بين الاقوامى