امریکا ہمارا دشمن نہیں البتہ افغانوں کو اس کی نیت پر تحفظات ہیں: طالبان وزیرداخلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

افغان طالبان حکومت میں قائم مقام وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کا کہنا ہے کہ ان کی تحریک امریکا کو "دشمن" کے طور پر نہیں دیکھتی ہے اور تنظیم امریکا سمیت بقیہ دنیا کےساتھ سفارتی روایات پر مبنی سفارتی تعلقات قائم کرنا چاہتی ہے۔

حقانی نے یہ بات اپنے پہلے نیوز انٹرویو میں کہی۔ وہ کابل میں امریکی نیوز چینل سی این این کی معروف اینکر اور صحافیہ کرسٹیان امانپور کے ساتھ خصوصی گفتگو کر رہے تھے۔ یہ انٹرویو دو حصوں میں مکمل ہوا۔

حقانی نے باور کرایا کہ افغانستان کی سرزمین کو "کسی کے لیے بھی خطرے کا ذریعہ ہر گز نہیں بننے دیا جائے گا۔ہم کسی دہشت گرد گروپ کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ امریکا یا اس کے اتحادیوں پر حملوں کے لیے ہماری سرزمین کا استعمال کرے"۔

افغان وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ ان کی حکومت خواتین کی تعلیم یا ان کے کام کرنے کے خلاف نہیں ہے تاہم لڑکیوں کی تعلیم "ان کے دائرے میں" رہ کر ہونی چاہیے۔

حقانی نے زور دیا کہ افغانستان میں پردہ "لازم" نہیں ہے۔تاہم پھر وہ اپنی بات سے واپس پلٹے اور کہا کہ یہ "فرض ہے جسے تمام لوگوں کو لاگو کرنا چاہیے"۔

یاد رہے کہ امریکا نے حقانی تک پہنچنے میں مدد کرنے والی معلومات دینے والے کے لیے 1 کروڑ ڈالر کا انعام مقرر کر رکھا ہے۔ حقانی نے کہا کہ ماضی کے عرصے میں طالبان کے بارے میں "غیر حقیقی" اور انتہائی بری تصویر منظر عام پر آئی۔ ان کے حوالے سے بہت سی افواہیں گردش میں رہیں۔ طالبان ان اپنے وعدوں کو پورا کرنا چاہتے ہیں۔

حقانی کا یہ انٹرویو ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور مغربی دنیا کی جانب سے طالبان پر اس بات کے لیے دباؤ بڑھایا جا رہا ہے کہ وہ افغانستان میں خواتین کو تعلیم حاصل کرنے اور کام کرنے کی اجازت دینے کے حوالے سے اپنا وعدہ پورا کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "امریکا کے ساتھ معاہدہ طے پانے کے بعد اب ہم امریکیوں کو بطور دشمن نہیں دیکھتے تاہم افغانوں کو ان (امریکیوں) کی نیت کے حوالے سے تحفظات ہیں"۔

حقانی نے دو ٹوک انداز میں واضح کیا کہ "ہمارے نزدیک ہمارے ملک کی آزادی اور اس کا دفاع یہ ایک قانونی حق ہے جو بین الاقوامی قوانین کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے"۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کے حوالے سے ہمارا رویہ بتدریج ظاہر ہو رہا ہے۔ اسی طرح یہ ملک میں کئی محکموں کے اندر بھی سامنے آیا ہے۔

حقانی نے واضح کیا کہ "ہم لڑکیوں کو چھٹی جماعت تک اسکول جانے کی اجازت پہلے ہی دے چکے ہیں اور اس سے اوپر کی سطح کے لیے کام کر رہے ہیں۔ آپ لوگ جلد اس حوالے سے اچھی خبر سن سکیں گے"۔

حقانی کے مطابق افغانستان میں ثقافتی اور قومی روایات اور رواج ہیں جن کے دائرے میں رہتے ہوئے ہم خواتین کو کام کے مواقع فراہم کرنے کا طریقہ کار وضع کر رہے ہیں۔

حقانی کے نزدیک کام اور تعلیم کے شعبوں میں خواتین کے حق کی تائید میں ہماری حکومت کے خلاف مظاہروں کے لیے تحریک بیرون ملک سے عمل میں آئی۔

حقانی نے کہا کہ بے روزگاری صرف خواتین کا مسئلہ نہیں بلکہ بہت سے لوگ اس کا شکار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ طالبان جنگجوؤں کی نصف تعداد ابھی تک روزگار سے محروم ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں