داعش کی صدر بش کے قتل کی منصوبہ بندی کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

کل منگل کو فوربز میگزین نے اطلاع دی ہے کہ داعش نے ڈالاس میں سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

میگزین نے کہا ہے کہ انٹیلی جنس معلومات اور واٹس ایپ اکاؤنٹس کی نگرانی سے پتا چلا ہے کہ ’داعش‘ کی جانب سے بش کو قتل کرنے کے لیے حملہ جنگجوؤں کو امریکا منتقل کرنے کی کوشش کی تھی۔

میگزین نے مزید کہا کہ بُش پر قاتلانہ حملے کی منصوبہ بندی کرنے والا ملزم 2020 سے امریکا میں ہے۔ اس نےامریکا میں پناہ کی درخواست کی تھی جس پر فیصلے کا انتظار کر رہا ہے۔ اس نے امریکی حکام کو بتایا کہ وہ بش جونیئر کو قتل کرنا چاہتا ہے کیونکہ بش کے ہاتھ بے گناہ عراقیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔

میگزین نے ’ایف بی آئی‘ کے ایک خفیہ ذریعے کے ساتھ بات چیت میں مشتبہ شخص کے حوالے سے کہا کہ وہ چار عراقی باشندوں کو عراق، ترکی، مصر اور ڈنمارک کے راستے امریکا لانے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ ان چاروں میں سے ایک کے پاس اسلحہ تھا۔ایف بی آئی کے مطابق امریکا میں موجود داعش کا شدت پسند نام نہاد "آئی ایس آئی ایس‘‘ کے وزیر خزانہ کا سیکرٹری تھا۔

میگزین نے بیورو آف انویسٹی گیشن کے حوالے سے بتایا کہ مشتبہ شخص نے چاروں افراد کو عراق میں بعث پارٹی کے سابق ارکان قرار دیا جو موجودہ عراقی حکومت سے متفق نہیں تھے اور سیاسی جلاوطن تھے۔

میگزین کے مطابق مشتبہ شخص نے کہا کہ وہ ایک سابق عراقی جنرل کو بھی تلاش کرنا چاہتا ہے اوراسے قتل کرنا چاہتا ہے۔ اس کا جواز یہ تھا کہ اس شخص نے عراق میں جنگ کے دوران امریکی افواج کی مدد کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں یقین ہے کہ عراقی جنرل امریکا میں غلط شناخت کے تحت رہ رہا ہے۔

بش نے سنہ 2009 میں دفتر چھوڑا اور ٹیکساس واپس آئے جہاں انہوں نے کرافورڈ میں ایک گھر خریدا۔ انہوں نے فیصلہ کن نکات کے عنوان سے اپنی یادداشتیں لکھیں۔ انہوں نے 2013 میں اپنی صدارتی لائبریری کھولی۔ان کی صدارت نے انہیں 2000 اور 2010 کے آخر میں شائع ہونے والےسروے میں بدترین دور صدارت میں شامل کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں