خواتین سے متعلق یو این خدشات طالبان حکومت نے ہوا میں اڑا دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

حال ہی میں سلامتی کونسل نے افغانستان میں خواتین پر عائد کی جانے والی سخت پابندیوں پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ اس مناسبت سے طالبان نے ایسے تمام خدشات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

سلامتی کونسل نے 24 مئی کو متفقہ طور پر افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے خواتین پر عائد کی جانے والی سخت پابندیوں پر تنقید کی تھی۔ ان پابندیوں میں خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم تک رسائی کو محدود کرنے کے ساتھ ان کی سرکاری ملازمت کرنے اور بلا روک نقل وحرکت پر پابندیاں بھی شامل ہیں۔

امریکی اور نیٹو افواج کے گزشتہ برس اگست میں افغانستان سےاچانک انخلاء کے بعد طالبان نے کابل پرحکومتی کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

افغان وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ سلامتی کونسل کی تنقید اور خدشات بے بنیاد ہیں اور ان کی حکومت خواتین کے حقوق کی مذہبی اور ثقافتی اعتبار سے اپنے وعدے پورا کرتی رہے گی۔

اس بیان میں مزید کہا گیا کہ افغانستان کی اکژیتی آبادی مسلمان ہے اور حکومت اس پر یقین رکھتی ہے کہ خواتین کاحجاب کی پابندی پر عمل کرنا ضروری ہے۔ مبصرین کے مطابق طالبان اسلامی قوانین کی سخت تشریح پر یقین رکھتے ہیں۔

افغان طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوند زادہ نے افغانستان ميں تمام خواتين کے ليے برقعہ لازمی قرار دے ديا ہے۔ ملک کے بڑے شہروں ميں خواتين اس فيصلے سے بظاہر پریشان اور ناراض دکھائی ديتی وہیں پر ان میں خوف بھی پایا جاتا ہے۔

چند روز قبل طالبان کی نیکی کی ترویج اور برائی کی روک تھام کی وزارت نے ایک حکم نامہ جاری کیا تھا، جس میں تمام ٹی وی چینلز پر کام کرنی والی خواتین کو چہرے کا پردہ یا نقاب پہننے کا حکم دیا گیا تھا۔ بعض افغان خواتین ٹی وی میزبانوں نے اس حکم نامے کی خلاف ورزی بھی کی لیکن انہیں ٹی وی چینلوں کی انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا کہ ان کے لیے چہرے ڈھانپنا لازمی ہے۔ ان خواتین اینکرز کا کہنا ہے کہ ان کے پاس نوکری بچانے کے لیے چہرہ ڈھانپنے کے سوا کوئی اور چارہ نہیں بچا۔

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی رچرڈ بینیٹ نے گذشتہ روز [26 مئی] افغانستان کا اپنا پہلا دورہ مکمل کیا ہے۔ گیارہ روزہ دورےکے اختتام پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے افغانستان میں انسانی حقوق کی گرتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ بینٹ کے مطابق خواتین کو عوامی زندگی سے پوری طرح سے دور کرنے کا معاملہ خاصا تشویشناک ہے۔

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے طالبان حکام پر زور دیا ہےکہ وہ انسانی حقوق سے متعلق چیلنجوں کو تسلیم کریں اور بین الاقوامی برادری کے خدشات دور کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں