روس اور یوکرین

امریکا کی یوکرین کو طویل فاصلے تک ہدف کی صلاحیت رکھنے والے میزائل دینے سے معذرت

بائیڈن انتظامیہ کا فیصلہ دانشمندی پر مبنی ہے: روس کا خیر مقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی صدر جو بائیڈن نے پیر کو کیف کی جانب سے بار بار مطالبات کے باوجود یوکرین کو روس تک پہنچنے کی صلاحیت کے حامل طویل فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے والے میزائل سسٹم کی فراہمی کو مسترد کر دیا ہے۔

بائیڈن نے ڈیلاویئر میں ویک اینڈ سے وائٹ ہاؤس واپس آنے کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ ہم یوکرین کو ایسے میزائل نہیں دیں گے جو روس تک پہنچ سکتے ہوں۔

روس کا خیر مقدم

درایں اثنا روسی سلامتی کونسل کے ڈپٹی چیئرمین دمتری میدویدیف نے پیر کو یوکرین کو میزائل سسٹم نہ بھیجنے کے واشنگٹن کے فیصلے کو "عقل مندانہ" قرار دیا۔

یوکرینی حکام نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ایسے نظام کی تلاش شروع کی ہے جسے ملٹیپل لانچ میزائل سسٹمز (ایم ایل آر ایس) کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا سسٹم ہے جو درجنوں میزائل ایک ساتھ سیکڑوں میل دور مار سکتا ہے۔

’سی این این‘ اور ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے جمعہ کو اطلاع دی تھی کہ بائیڈن انتظامیہ اس سسٹم اور ایک اور تیز رفتار منتقلی کا نظام ’ HIMARS ‘ یوکرین کو ایک بڑے فوجی امدادی پیکج کے حصے کے طور دینے پرغور کررہا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں تھا کہ بائیڈن اپنے بیانات میں کس میزائل سسٹم کا حوالہ دے رہے تھے۔

یوکرین کی حکومت نے مغرب پر زور دیا ہے کہ وہ اسے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار فراہم کرے تاکہ وہ جنگ کا رُخ موڑسکے۔ یوکرین اور روس کے درمیان جنگ چوتھے مہینے میں جاری ہے اور یوکرین طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی مدد سے اس کا رخ موڑنا چاہتا ہے۔ امریکی حکام نے کہا کہ ایسے ہتھیار بھیجنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

24 فروری کو روس کے فوجی حملے کے بعد سے یوکرین میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔

سیویرڈونسٹک میں بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ

دوسری جانب لوگانسک کے علاقے کے گورنرسرگئی گائیڈائی نے پیر 30 مئی کو کہا کہ روسی افواج مضافات سے سیویروڈونٹسک شہر پر پیش قدمی کر رہی ہیں۔ انہوں نے یوکرین کے ٹیلی ویژن پر مزید کہا کہ "بدقسمتی سے ہمارے پاس مایوس کن خبریں ہیں‘‘۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ روسی بمباری نے سیویروڈونٹسک شہر میں تمام اہم بنیادی ڈھانچے کی تنصیبات کو تباہ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر پر قبضہ کرنا اب روسیوں کا "بنیادی مقصد" بن چکا ہے۔

شہر پر روسی بمباری کے نتیجے میں تمام بڑے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ شہر کے دو تہائی سے زیادہ رہائشی یونٹس تباہ ہو گئے۔ زیلنسکی نے ایک ٹیلیویژن تقریر میں کہا سیویروڈونٹسک پر قبضہ کرنا روس کا ایک بڑا ہدف بن گیا ہے۔

اتوار کے روز یوکرینی صدر نے ملک کے مشرق میں روسی حملے کے آغاز کے بعد پہلی بار محاذ جنگ کا دورہ کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں