سعودی عرب 2022ء میں غیرملکی سیاحوں کی تعداد تین گنابڑھاکرکتنی کرناچاہتا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب رواں سال غیرملکی سیاحوں کی تعداد کو تین گنا تک بڑھاناچاہتا ہے اور اس سال اسے توقع ہے کہ ایک کروڑ20لاکھ غیرملکی زائرین اور سیاح مملکت میں آئیں گے کیونکہ کرونا وائرس کی وَبا کی پابندیوں میں کمی کی وجہ سے بیرون ممالک سے عازمینِ حج کی آمد کاآغازہوچکا ہے اورولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے شروع کردہ سیاحتی منصوبوں میں بعض کو سیاحوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

کروناکی وَبا سے عالمی سطح پرصنعت پرتباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں۔اس وبا سے چند ماہ قبل ستمبر2019 میں مملکت نے سیاحوں کے ویزوں کا آغاز کیا تھا۔سعودی وزیرسیاحت احمد الخطیب نے اتوار کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ 2020 اور2021 میں اندرون ملک سفرمیں اضافہ ہوا ہے اورحکام نے گذشتہ سال ریکارڈ چھے کروڑ چالیس لاکھ اسفارکا مشاہدہ کیا ہے۔اس سےسعودی سیاحت کے نوزائیدہ شعبے کو گرنے سے بچانے میں مدد ملی اور اب حکام مزید بین الاقوامی سیاحوں کی آمد کی توقع کررہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ بین الاقوامی زائرین کا اس سال کا ہدف ایک کروڑ بیس لاکھ ہے۔یہ ہدف2021 میں 40 لاکھ تھا۔اس طرح امسال تین گنا اضافے کی توقع ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’’اب معمولاتِ زندگی واپس آچکے ہیں۔ممالک نے اپنی سرحدیں کھول دی ہیں، پابندیاں کم ہونا شروع ہوگئی ہیں اور لوگوں نے اسفارشروع کردیے ہیں‘‘۔

سعودی عرب نے 2030 تک سالانہ دس کروڑ زائرین کی آمد کا ہدف مقررکررکھا ہے اور یہ ولی شہزادہ محمد بن سلمان کے وژن 2030 کے اصلاحاتی ایجنڈے کا اہم عنصر ہے۔اس کا مقصد تیل پر منحصر معیشت کو متنوع بنانا اورمملکت کو دنیا کے لیے کھولنا ہے۔اس مقصد کے لیے مملکت نے حالیہ برسوں میں سینما گھروں، صنفی مخلوط محفلوں اورمختلف کھیلوں کے انعقاد لیے قوانین میں نرمی کی ہے۔

احمد الخطیب نے واضح کیا کہ 2030 تک مقررکردہ ہدف میں دس کروڑ زائرین میں سے تین کروڑ بیرون ملک سے آنے والے ہیں جبکہ باقی مملکت کے اندرون میں سفرکرنے والے لوگ ہوں گے۔

ان میں قریباً تین کروڑ افراد عازمین حج اور عمرہ ہوں گے۔ان میں بھی مقامی مکین اورغیرملکی دونوں شامل ہوں گے۔وہ زیادہ تراسلام کے مقدس ترین مقامات مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں جائیں گے۔

آیندہ ماہ دو سال کے وقفے کے بعد قریباً دس لاکھ ملکی اور غیرملکی عازمین فریضۂ حج کی سعادت حاصل کریں گے۔ گذشتہ دو سال کے دوران میں کروناوائرس کی وَبا کی وجہ سے سعودی حکومت نے بیرون ملک سے عازمین حج کی آمد پر پابندی عاید کردی تھی اور صرف مملکت میں مقیم ملکی اور غیرملکی تارکین وطن کی محدود تعداد کو حج کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

سیاحت کے فروغ کی ایک اورنمایاں خصوصیت شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں شروع کیے گئے بڑے ترقیاتی منصوبے ہیں۔ان میں 500 ارب ڈالرکی لاگت سے تعمیر ہونے والا مستقبل کا میگاشہرنیوم بھی شامل ہے۔اس کے علاوہ دارالحکومت الریاض کے نواح میں واقع تاریخی قصبے الدرعیہ کوثقافتی ورثے اور تفریحی منزل کے طور پردوبارہ تعمیرکیا جا رہا ہے۔

الخطیب نے کہاکہ الدرعیہ میں ریستورانوں پر مشتمل علاقہ ستمبرمیں کھلنے والا ہے جبکہ اس طرح کے منصوبوں کے دیگرعناصر2025 کے بعد مکمل ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب عالمی سطح پر سیاحت کے منظر نامے کو تبدیل کردے گا اوروہ 2030 تک جو سیاحتی منزلیں پیش کرے گا،وہ بالکل مختلف ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں