بھارت: توہین رسالت پر مذہبی کشیدگی، پولیس نے گرفتاریاں تیز کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پولیس حکام کے مطابق پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت پر مبنی بیانات دینے والی حکمران جماعت کی سابقہ ترجمان کا سر قلم کرنے کی دھمکی دینے والے نوجوان کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے حراست میں لے لیا گیا ہے۔

یوٹیوب پر نشر کی جانے والی اس ویڈیو کو بھارتی حکام نے اتار لیا تھا تاکہ مذہبی کشیدگی کو بڑھنے سے روکا جاسکے۔

بھارت کے مسلمان، بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی [بی جے پی] کے دو ترجمانوں کی جانب سے اسلام مخالف بیانات پر احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

اس سے قبل بی جے پی نے اپنی مرکزی ترجمان نوپور شرما کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین پر مبنی بیانات پر پارٹی رکنیت معطل کر دی تھی اور ان کے تحت کام کرنے والے عہدیدار نوین جندل کو پارٹی سے نکال دیا تھا۔

بی جے پی کے سابق اراکین کے بیانات پر بہت سے مسلم ممالک نے بھی بھارت سے سفارتی سطح پر احتجاج کیا۔ قطر، سعودی عرب، یو اے ای، عمان اور ایران نے بھارت سے سفارتی سطح پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔

پچھلے ہفتے کے دوران بھارتی وزارت خارجہ نے وضاحت جاری کی تھی یہ بیانات بھارتی حکومت کی پالیسی کے عکاس نہیں ہیں۔

متنازعہ بیانات کے بعد بھارت بھر میں مسلمانوں کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا جس کے دوران پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی دیکھنے میں آئیں۔ مشرقی شہر رانچی میں پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے دوران دو نوعمر لڑکے بھی ہلاک ہو گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں