تجارتی راستوں کی حفاظت کی ذمہ دار بین الاقوامی ٹاسک فورس کی کمان سعودی عرب کے سپرد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

رائل سعودی بحریہ نے اہم تجارتی راستوں کی حفاظت کے لیے کثیر ملکی فوج کی کمان سنبھال لی ہے۔ امریکی سنٹرل کمانڈ کے مطابق سعودی کمان کے زیر کمان آنے والی فورس دنیا میں سب سے بڑی بین الاقوامی بحری شراکت ہے۔

رائل سعودی بحریہ کے کموڈور عبداللہ المطیری نے اس بین الاقوامی نیول فورس 'سی ٹی ایف ' کی قیادت سنبھال لی ہے۔ سعودی کموڈور المطیری نے اپنی ذمہ داری کا چارج کا چارج پاکستان بحریہ کے کموڈور وقار محمد سے لیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک تقریب بحرین میں منعقد کی گئی۔

کمبائنڈ ٹاسک فورس کے نئے کمانڈر عبداللہ المطیری سعودی بحریہ میں 27 سال سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ اس کثیر ملکی ذمہ داری سے پہلے سعودی بحریہ میں ڈپٹی دائریکٹر آپریشنز ویسٹرن فلیٹ کے طور پر ذمہ داری نبھا رہے تھے۔

یہ ذمہ داری سنبھالتے ہوئے کموڈور المطیری نے کہا ' میری ٹیم اپنے میری ٹائم پارٹنرز کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش جاری رکھے گی کہ دنیا کہ اہم ترین پانیوں میں بڑے چیلنج اور مشکلات ہیں۔ امریکی سینٹ کام کا کہنا ہے کہ 'سعودیہ تیسری بار سی ٹی ایف کا سربراہ بنا ہے۔ '

سی ٹی ایف کا قایم 2002 میں عمل میں لایا گیا تھا، تاکہ خلیج اومان، بحیرہ عرب، بحر ہند، خلیج عدن اور بحر احمر میں تجارتی جہازوں کی حفاظت کی جاسکے۔

یہ 'کمبائنڈ ٹاسک فورس' دہشت گردی کا بھی پانیوں میں مقابلہ کرتی ہے۔ سعودی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ فورم انسانی سمگلنگ، اسلحہ سمگلنگ اور منشیات کی سمگلنگ کی روک تھام بھی کرتا ہے۔

کمبائنڈ ٹاس فورس میں دنیا کے 34 ممالک کی بحری افواج شامل ہوتی ہیں ، اس کا ہیڈ کوارٹر بحرین میں ہے اور یہ امریکہ کے پانچویں بحری بیڑے کے ساتھ منسلک ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں