متحدہ عرب امارات کی وزارت صحت و روک تھام (ایم او ایچ اے پی) نے اتوار کے روزملک میں ’’آبلۂ بندر‘‘(منکی پاکس) کے تین نئے کیسوں کی تشخیص کی اطلاع دی ہے۔
وزارت صحت نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ تمام حفاظتی رہنما خطوط اور تدابیرپرعمل کریں اور اجتماعات میں سفر یا لوگوں سے ملاقات کے دوران میں روک تھام کے اقدامات کریں۔
صحت حکام نے کہا ہے کہ ممکنہ طور پر مہلک بیماری کے عالمی پھیلاؤ کے پیش نظرمنکی پاکس میں مبتلا ہونے والے مکینوں کو 21 دن تک قرنطینہ کرنا ہوگا۔
ماہرین کے مطابق جن مریضوں کو 38.5 ڈگری سے زیادہ بخار ہوتا ہے، ان کے جسموں پردانے نکل آتے ہیں اور وہ کل جسم کے 30 فی صد سے زیادہ حصوں پر ہوسکتے ہیں۔ اس کی علامات کے حامل مریضوں کواسپتال میں الگ تھلگ رکھنا چاہیے۔حاملہ خواتین، چھے سال سے کم عمر کے بچّوں، 70 سال سے زیادہ عمر کے بوڑھے مریضوں اور شدید بیمار مریضوں کوصحت یاب ہونے تک اسپتالوں میں تنہائی میں رکھا جانا چاہیے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت صحت نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ منکی پاکس وائرس سے متعلق معلومات کے لیے سرکاری ذرائع پر انحصار کریں اورافواہوں اور غلط معلومات پھیلانے سے گریز کریں۔
عالمی ادارہ صحت نے ہفتے کے روز منکی پاکس کی وَبا کو عالمی صحت ایمرجنسی قراردیا ہے۔اس نے یہ فیصلہ 70 سے زیادہ ممالک میں 14,000 سے زیادہ کیسوں کی تشخیص کے بعد کیا ہے۔
عالمی ایمرجنسی کے اعلان کا مطلب یہ ہے کہ منکی پاکس کی وَباایک ’’غیرمعمولی واقعہ‘‘ہے۔اس کے لیے عالمی ردعمل کی ضرورت ہے کیونکہ یہ مزید ممالک میں پھیل سکتا ہے۔ڈبلیو ایچ او کے مطابق اس مرض کی علامات دو سے چار ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہیں۔
یواے ای میں آبلۂ بندر کے پہلے کیس کی 24 مئی کو تصدیق کی گئی تھی۔ یہ غیرملکی مسافر مغربی افریقا کے ایک ملک سے تعلق رکھتا تھا۔یواے ای میں آمد کے بعد اس کا ٹیسٹ کیا گیا تھا اور وہ اس بیماری میں مبتلا پایا گیا تھا۔
امریکاکے مرکزبرائے انسدادامراض اورروک تھام (یو ایس سنٹرفارڈیزیزکنٹرول اینڈ پریوینشن،سی ڈی سی) کے مطابق آبلۂ بندر کسی متاثرہ شخص کے جسمانی سیال یا زخموں کی منتقلی کے ذریعے یا اس مواد کے ذریعے پھیل سکتا ہے جو اس کے کپڑوں یا بستر پرلگا ہو اور اس کو چھونے والافرد اس وائرس کا شکار ہوسکتاہے۔یہ کسی ماں کے رحم سے بھی بچے میں منتقل ہوسکتا ہے۔
ڈبلیوایچ اوکے مطابق آبلۂ بندر کی شناخت پہلی بار1970ء میں جمہوریہ کانگو میں انسانوں میں ہوئی تھی اور یہ وائرس بندروں سے انسانوں میں منتقل ہوا تھا۔یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوسکتا ہے اور اسی ایک متاثرہ فرد سے دوسرا فرد اس کا شکار ہوسکتا ہے۔