افغانستان وطالبان

الظواہری کی لاش غائب ہے، تحقیقات کر رہے ہیں: طالبان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افغانستان میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے تصدیق کی ہے کہ القاعدہ رہ نما ایمن الظواہری کی ہلاکت کے معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔

انہوں نے ’العربیہ‘چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ تحریک الظواہری کی لاش تک پہنچنے میں ناکام رہی، کیونکہ اب تک اس کا کوئی سراغ نہیں ملا اور طالبان کو اس جگہ پر ان کی موجودگی کا علم نہیں تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اس کیس کی مختلف جہتیں ہیں۔ تحقیقات ہو رہی ہیں۔ جب یہ تحقیقات مکمل ہو جائیں گی، ہم نتائج کا اعلان کریں گے۔"

انھوں نے العربیہ کو یہ بھی بتایا کہ الظواہری کے گھر کو نشانہ بنانے والے میزائل نے سب کچھ تباہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ علاقہ بہت محفوظ ہے اور عام طور پر اس کا معائنہ نہیں کیا جاتا۔

ذبیح اللہ مجاہد نے امریکا کی طرف سے کئے گئے آپریشن کو دوحا معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے منفی نتائج برآمد ہوں گے۔

کابل میں الظواہری کا قتل

قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے 2 اگست کو اعلان کیا تھا کہ امریکا نے القاعدہ کے رہ نما ایمن الظواہری کو کابل میں ہلاک کر دیا ہے۔

الظواہری کی ہلاکت القاعدہ کے لیے 2011 میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد سے سب سے بڑا دھچکا ہے۔ یہ واقعہ شکوک پیدا کرتا ہے کہ طالبان نے مسلح گروہوں کو پناہ نہ دینے کے اپنے عہد کو کس حد تک پورا کیا ہے۔

یہ آپریشن امریکا کی طرف سے افغانستان میں کسی ہدف پر شروع کیا جانے والا پہلا اعلان کردہ حملہ ہے۔ واشنگٹن نے گذشتہ سال 31 اگست کو طالبان کی اقتدار میں واپسی کے چند دن بعد اس ملک سے اپنی فوجیں نکالی تھیں۔

الظواہری کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ نائن الیون حملوں کا ماسٹر مائنڈ تھا جس نے 11 ستمبر کے حملوں سمیت القاعدہ کی کارروائیوں کی ہدایت کی تھی اور بن لادن کا ذاتی معالج بھی تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں