سلمان رشدی پر قاتلانہ حملے پر ایران کا رد عمل کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

چہرہ ڈھانپے شخص جب 75 سال قبل ہندوستانی مسلماں ماں باپ کے ہاں پیدا ہونے والے سلمان رشدی پر حملہ آور ہوا تو اس نے رشدی پر چاقو سے 10 سے 15 وار کیے۔ یہ سب صرف بیس سیکنڈز میں ہوا جس کے نتیجے میں سلمان رشدی شدید زخمی ہو گئے۔ رشدی اس وقت نیویارک کے شاتاقوا انسٹی ٹیوٹ آف لیٹرز میں فنی آزادی پر اپنے لیکچر دینے کی تیاری کر رہے تھے۔

اگر رشدی حملہ کے وقت پیچھے نہ ہٹتے تو شاید بائیس سالہ نوجوان ان کی جان لے لیتا۔

چونکہ سلمان رشدی کی ’شہرت‘ کے ساتھ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خمینی کا فتوٰی بھی جڑا ہوا جس میں خمینی نے سلمان رشدی کو ’شیطانی آیات‘ کتاب لکھنے پر واجب القتل قرار دیا تھا اور ایران نے رشدی کے قتل پر تیس لاکھ ڈالرکا انعام بھی رکھا ہے۔

چنانچہ رشدی پر قاتلانہ حملے پر ایران کی طرف سے رد عمل فطری بات ہے۔

ایرانی جوہری مذاکراتی ٹیم کے مشیر محمد مراندی نے ایک ٹویٹ میں رشدی پر حملے پر حیرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے امریکا اور ایران تہران کے جوہری پروگرام پر معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

ایرانی جوہری مذاکراتی ٹیم کے مشیر محمد مراندی کی ٹویٹ کا عکس
ایرانی جوہری مذاکراتی ٹیم کے مشیر محمد مراندی کی ٹویٹ کا عکس

انہوں نے مزید کہا کہ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب امریکی قومی سلامتی کے سابق مشیر جان بولٹن پرحملے کی ایرانی سازش رچانے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے ٹویٹ میں کہا کہ میں ایسے مصنف پر نہیں روؤں گا جو مسلمانوں اور اسلام کے لیے لامتناہی نفرت اور حقارت پھیلاتا ہے۔ عجیب بات ہے کہ جیسے ہی ہم ممکنہ جوہری معاہدے کے قریب پہنچتے ہیں، امریکا بولٹن پر حملے کا الزام لگاتا ہے۔ پھر ایسا ہوتا ہے؟" ٹویٹ کے نیچے انہوں نے رشدی، بولٹن اور سابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی تصاویر پوسٹ کیں۔

رشدی نے 1988 میں "شیطانی آیات" کے نام سے ایک ناول شائع کیا تھا جس نے عالم اسلام میں غم وغصے کی لہر دوڑا دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں