زیادالمعایوف نے تاریخ رقم کردی؛پیشہ ورانہ میچ جیتنے والے پہلے سعودی باکسر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

زیاد’زیزو‘المعایوف نے جدہ میں ہفتے کی شب ہونے والے باکسنگ میچ میں پہلے ہی راؤنڈ میں الفریڈوالٹوری کو ناک آؤٹ کردیا ہے۔اس طرح وہ سعودی عرب سے پیشہ ورانہ باکسنگ میچ جیتنے والے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں اور یوں انھوں نے ایک تاریخ رقم کردی ہے۔

22سالہ سعودی کھلاڑی جب جدہ کے شاہ عبداللہ اسپورٹس سٹی میں باکسنگ رنگ میں اترے تو شائقین نے انھیں بھرپورداد دی۔ جب انھوں نے الٹوری کو چند ثانیوں میں شکست دے دی تو ان کی خوشی دیدنی تھی۔سعودی عرب میں یہ ان کا پہلا باکسنگ مقابلہ تھا۔

انھوں نے مقابلے کے بعد ایک انٹرویو میں کہا کہ یہاں اپنے آبائی ملک کے لوگوں کے سامنےآنا کس قدر ایک اعزاز کی بات ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ برسوں کی محنت کو لوگ پردے کے پیچھے نہیں دیکھتے لیکن اس محنت کا حاصل چند منٹ کا مقابلہ ہوتا ہے اور ان ہی چند منٹوں کے مقابلے میں سب سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے۔

المعایوف نے بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس کے موقع پرالعربیہ انگلش سے بات کی تھی کہ کس طرح وہ مملکت کی تاریخ کا سب سے کامیاب ایتھلیٹ بننے کا عزم رکھتے ہیں۔

22سالہ المعایوف نیویارک میں ایک سعودی والد اور مصری ماں کے ہاں پیدا ہوئے تھے اوران کی پرورش مصر میں ہوئی ہے۔وہ لاس اینجلس میں سابق آئی بی ایف جونیئر ویلٹر ویٹ اور ڈبلیو بی سی ویلٹر ویٹ چیمپئن بڈی میک گیرٹ کے زیرنگرانی تربیت حاصل کرتے رہے ہیں۔

المعایوف نے گذشتہ آٹھ ہفتے کے دوران میں برطانیہ کے شہر لیورپول میں میک گیرٹ اورتربیتی شراکت دار کالم اسمتھ کے ساتھ تربیت حاصل کی ہے۔کالم اسمتھ کا اپنا مقابلہ جدہ میں لائٹ ہیوی ویٹ میں میتھیو باؤڈرلیک سے ہوا ہے۔

زیاد نے اسے اب تک کا سب سے مشکل کیمپ قرار دیا تھا اور کہا کہ وہ ایک مشکل مرحلےسے وہ گزرے ہیں۔اس کی وجہ جزوی طور پربرطانیہ میں ان کے لیے اجنبی ماحول اور وہاں ہونے والے سخت مقابلے تھے۔

’’باکسنگ میں مقابلہ جنگ وجدل میں بدل جاتا ہے۔ہرکوئی آپ کا سراتارنا چاہتا ہے اور یہ آپ کے لیے لیورپول ہے۔یہ صرف ایک نعمت تھی اور میں اس بڑے پیمانے پر مقابلے کے لیے محسوس کرتا ہوں، مجھے جس کی ضرورت تھی ،وہ سب مجھے مل گیا ہے‘‘۔ان کا کہنا تھا۔

جدہ میں باکسنگ کے ان مقابلوں کے انعقاد سے سعودی عرب نے ایک نئی تاریخ رقم کردی ہے کیونکہ اس نے خواتین کے باکسنگ کے پہلے میچ کی میزبانی بھی کی ہے۔اس میں رملہ علی نے کرسٹل گارشیا نووا کو صرف ایک منٹ میں شکست دے دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں