ایمن الظواہری کی لاش کا سراغ نہیں لگا، تحقیقات جاری ہیں: طالبان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

افغانستان کی طالبان حکومت 'امارت اسلامیہ افغانستان' کے مطابق امریکی ڈرون حملے میں القاعدہ سربراہ کی ہلاکت کے دعوی کے بعد ان کی میت اب تک نہیں مل سکی۔

افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق طالبان حکام کو اب تک ایمن الظواہری کی لاش کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں اور اس ضمن میں تحقیقات ابھی جاری ہیں۔

امریکی صدر نے 2 اگست کو قوم سے خطاب میں دعویٰ کیا تھا کہ القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کو افغانستان کے اندر ہونے والے ایک ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔ صدر بائیڈن نے تصدیق کی کہ انہوں نے گذشتہ ہفتے افغانستان کے اندر خصوصی ڈرون آپریشن کی منظوری دی تھی اور اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ کسی عام شہری، بشمول الظواہری کے خاندان کے افراد کے کسی کی زندگی کو نقصان نہ پہنچے۔

اس سے قبل 11 اگست کو ذبیح اللہ مجاہد نے ’العربیہ‘ چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ تحریک الظواہری کی لاش تک پہنچنے میں ناکام رہی، کیونکہ اب تک اس کا کوئی سراغ نہیں ملا اور طالبان کو اس جگہ پر ان کی موجودگی کا علم نہیں تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اس کیس کی مختلف جہتیں ہیں۔ تحقیقات ہو رہی ہیں۔ جب یہ تحقیقات مکمل ہو جائیں گی، ہم نتائج کا اعلان کریں گے۔"

انھوں نے العربیہ کو یہ بھی بتایا کہ الظواہری کے گھر کو نشانہ بنانے والے میزائل نے سب کچھ تباہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ علاقہ بہت محفوظ ہے اور عام طور پر اس کا معائنہ نہیں کیا جاتا۔

الظواہری کی موت کی خبریں

یہ بات قابل ذکر ہے کہ الظواہری نے 2011 میں اسامہ بن لادن کی امریکی فورسز کے ہاتھوں پاکستان میں گہرائی میں رات کے گہرے چھاپے میں ہلاکت کے بعد القاعدہ کی قیادت سنبھالی تھی۔

نومبر 2020 میں بیماری کے ساتھ جدوجہد کے بعد ان کی موت کی خبر پھیل گئی، کیونکہ ایسی اطلاعات تھیں کہ انہیں جگر کا کینسر تھا اور دیگر رپورٹس کہ انہیں دمہ ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب وہ تنظیم کی طرف سے شائع ہونے والی ویڈیو میں نظر آئے۔

الظواہری نے ستمبر 2021 میں امریکا میں 11 ستمبر کے دہشت گردانہ حملوں کی 20 ویں برسی کے موقع پر، اپنی موت کے بارے میں افواہوں کو دور کرنے کی بہ ظاہر کوشش میں نئی ویڈیو فوٹیج جاری کی۔

یاد رہے کہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو امریکہ کی سپیشل فورسز نے ایبٹ آباد میں 2 مئی2011 میں ایک آپریشن میں ہلاک کر دیا تھا۔ اور اس کے بعد الظواہری نے دہشت گرد قرار دیے جانے والی تنظیم کی قیادت سنبھال لی تھی۔ القاعدہ وہ تنظیم ہے جس کو امریکہ کے شہر نیویارک پر نائن الیون کے دہشت گرد حملوں کی افغانستان کے اندر بیٹھ کر منصوبہ بندی کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔

ابھی گذشتہ دنوں اقوام متحدہ کے اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشن مانیٹرنگ ٹیم کی جانب سے ایک رپورٹ ایف ڈی ڈی جرنل میں جاری کی گئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ بن لادن کے بعد القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بہت آسانی سے پیغام رسانی کی اہلیت بھی رکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں