ایران نے البانیاکے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے فیصلے کی شدید مذمت کردی

ہمارے پاس سائبرحملے میں ایران کے ملوّث ہونے ٹھوس شواہد ہیں: البانوی رکن پارلیمان کی العربیہ سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران نے بدھ کوالبانیاکی جانب سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور البانیا کے اس اقدام کی وجوہ کو’’بے بنیاد دعوے‘‘قراردے کر مستردکردیا ہے۔

البانیا نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ کیا ہےاور جولائی میں سائبر حملے کے ردعمل میں ایرانی سفارت کاروں اور سفارتی عملہ کوملک سے نکل جانے کا حکم دیا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں البانیا کے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے فیصلے کی سخت مذمت کی ہے۔

درایں اثناء البانوی پارلیمان کے ایک رکن نے العربیہ کو تصدیق کی ہے کہ ان کی حکومت کے پاس ملک کے خلاف سائبرحملے میں ایران کے ملوّث ہونے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔انھوں نے بتایا کہ البانیا کی سکیورٹی سروسز نے اس حملے ذمے دار ایرانی گروہوں کی نشان دہی کی ہے۔

انھوں کہا کہ ’’ایران کے اس سائبر حملے کا مقصد البانیا کے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنا تھا۔ایرانی حکومت اس کے ردعمل میں ہمارے ملک کے مؤقف سے پریشان ہے‘‘۔رکن پارلیمنٹ نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ دنیا بھرمیں دہشت گردی کی حمایت کے اپنے طرزِعمل پرنظرثانی کرے اور اس کو تبدیل کرے۔

قبل ازیں البانوی وزیراعظم ایدی راما نے جولائی میں ہونے والے سائبر حملے کی تحقیقات کے بعد ایرانی سفارت کاروں اور سفارت خانہ کے عملہ کو 24 گھنٹے کے اندرملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔انھوں نے میڈیا کو بھیجے گئے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ حکومت نے فوری طورپراسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کردیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ’’ یہ انتہائی ردعمل سائبرحملے کی سنگینی اورخطرے کے بالکل مکمل تناسب سے ہے۔اس ایرانی حملے سے سرکاری خدمات کو مفلوج کرنے، ڈیجیٹل نظام مٹانے اور ریاستی ریکارڈ کو ہیک کرنے، سرکاری انٹرا نیٹ الیکٹرانک مواصلات چوری کرنے اور ملک میں افراتفری اور عدم تحفظ پیدا کرنے کا خطرہ تھا‘‘۔

امریکا نے ایران پر اس سائبر حملے کے الزام کی حمایت کی تھی اور اس نے اپنے نیٹو اتحادی پراشتعال انگیز سائبرحملے کے جواب میں ایران کے خلاف کارروائی کا عزم ظاہر کیا تھا۔

برطانیہ کے نیشنل سائبرسکیورٹی سنٹر نے بھی ایران کو جولائی میں البانوی حکومت کے خلاف سائبر حملے کا موردالزام ٹھہرایا ہے اور کہا ہے کہ ایرانی ریاست سے وابستہ اداکار ’’قریباً یقینی طورپر‘‘اس اوچھے حملے کے ذمے دارہیں۔

برطانوی وزیرخارجہ جیمزکلیورلی نے ایک بیان میں کہا کہ ایران کے غیرذمے دارانہ اقدامات سے ظاہرہوتا ہے کہ اس کو البانوی عوام سے کوئی سروکار نہیں۔اس کے اقدامات کے نتیجے میں البانویوں کی ضروری سرکاری خدمات تک رسائی کی صلاحیت کافی حد تک محدود ہوکررہ گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں