ایرانی انٹیلی جنس پر پابندیاں لگانے کا امریکی فیصلہ، ایران نے مذمت کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے امریکی وزارت خزانہ کے اس دوبارہ لیے گئے ایکشن کی مذمت کی ہے جس کے تحت ایران کی وزارت انٹیلی جنس پر پابندیاں لگائی ہیں۔

ایرانی ترجمان نے کہا کہا کہ جس طرح فوری طور پر البانیہ کی حکومت کے الزام پر کارروائی کی گئی ہے اس سے لگتا ہے یہ ڈیزائن کسی اور کا نہیں امریکہ کا اپنا تھا۔ ترجمان نے امریکہ پر الزام لگا ہے کہ 'امریکہ دہشت گرد گروپ کی حمایت کرتا ہے جو خود کو مجاہدین خلق کہتے ہیں اور البانیہ اس گروپ کی میزبانی کرتا ہے۔'

واضح رہے البانیہ نے 2013 میں اتفاق کیا تھا کہ وہ مجاہدین خلق کو امریکی اور اقوام متحدہ کی درخواست پر عراق سے اپنے ہاں آنے کی اجازت دے گا اور انہیں بلقانی ریاست میں سالہا سال کے لیے آباد کرے گا۔

ایرانی ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ جرائم پیشہ گروہ امریکی آلہ کار کے طور پر ایران کے خلاف کام کرتا ہے۔' واضح رہے مجاہدین خلق نے 1979 میں آیت اللہ خمینی کے انقلاب کی حمایت کی تھی۔ لیکن جلد ہی یہ گروپ نئی ایرانی رجیم کے خلاف کھڑا ہو گیا کہ اسے بھی تبدیل کرے۔' بعد ازاں ایران عراق جنگ کے دوران یہ مجاہدین خلق صدام کے ساتھ کھڑے ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں