یورپی یونین کا جبری یغورمشقتیوں کی تیارکردہ مصنوعات پرپابندی عاید کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

یورپی یونین نے چین کے مسلم اکثریتی علاقے سنکیانگ میں جبری مشقت سے تیارکردہ مصنوعات پر پابندی عایدکرنے کا فیصلہ کیا ہے۔چین کو سنکیانگ میں یغورنسل کے مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک پرعالمی سطح پر کڑی تنقید کا سامنا ہے اور اس پر یہ الزام عاید کیا جارہا ہے کہ وہ سنکیانگ میں یغورعوام کوغلاموں کی طرح جبری مزدوری پر مجبورکررہاہے۔

یورپی یونین کے اعلان میں خاص طور پر چین کا ذکر نہیں کیا گیا ہے بلکہ اس کے بجائے جبری مشقت سے تیارکردہ تمام مصنوعات پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ان میں بلاک کے رکن ممالک میں تیار ہونے والی مصنوعات بھی شامل ہیں۔

یورپی یونین کے ٹریڈ کمشنر ولدیس ڈومبروفسکیس نے کہا کہ اس تجویز سے جدید دور کی غلامی سے نمٹنے میں حقیقی فرق پڑے گا اور اس سے دنیا بھر کے لاکھوں افراد متاثر ہوں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہمارا مقصد یورپی یونین کی مارکیٹ سے جبری مشقت سے تیارکردہ تمام مصنوعات کو ختم کرنا ہے، چاہے وہ کہیں سے بھی تیار ہوکرآئی ہوں۔

اس تجویز کے دو سال بعد نافذ ہونے سے پہلے یورپی یونین کے رکن ممالک اور یورپی پارلیمنٹ کی توثیق کی ضرورت ہوگی۔

یہ تجویزسنکیانگ سے درآمدات پر امریکا کی جانب سے واضح پابندی سے مختلف ہے جس میں یہ تصور کیا گیا ہے کہ خطے کی مصنوعات میں جبری مشقت شامل ہے،اس لیے انھیں سرحد پراس وقت تک روکا جاتا ہے جب تک کہ کاروبار اس کے برعکس ثابت نہ ہو سکیں۔

اس کے باوجود یورپی یونین کی تجویز کو بیجنگ کی جانب سے سخت ردعمل کا خطرہ ہے۔اگراسے مغربی خطے میں یغوروں اور دیگر مسلم اقلیتوں کے خلاف حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات سے جوڑاجاتا ہے تو چین کی جانب سے ردعمل کااظہار ہوسکتا ہے۔

سنکیانگ دنیا میں کپاس پیداکرنے والے بڑے علاقوں میں سے ایک ہے۔نیز وہ شمسی پینلز کے مواد کا ایک اہم سپلائر ہے۔

برسلز میں ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین کا منصوبہ قومی کسٹم حکام کو ان مصنوعات کی تحقیقات شروع کرنے کی اجازت دے گا جن کے بارے میں یہ واضح شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں کہ یہ جبری مشقت کے ذریعے تیارشدہ ہیں۔تفتیش کاروں کو یورپی یونین سے باہر کے ممالک سے آنے والے مال سمیت بیشتر درآمدات کی جانچ پڑتال اور معائنے کا اختیار دیا جائے گا۔

چین پر برسوں سے سنکیانگ کے خطے میں دس لاکھ سے زیادہ یغوروں اور دیگر مسلمانوں کو حراست میں لینے کا الزام ہے جبکہ بیجنگ کا اصرار ہے کہ وہ انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے ہنرمندوں کے پیشہ ورانہ مراکز چلا رہا ہے جہاں مختلف مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوسیپ بوریل نے رواں ماہ کے اوائل میں سنکیانگ میں یغور عوام کے خلاف چین کے کریک ڈاؤن کے بارے میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کا خیرمقدم کیا تھا۔

چینی حکومت نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر کی اس رپورٹ کی مذمت کی ہے اور اس کو ’’امریکااور مغرب کے ٹھگ اور ساتھی‘‘کا کام قراردیا ہے۔

اقوام متحدہ کے تحت اداروں کی واک فری فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر محنت اور نقل مکانی کے موضوع پر ایک اور حالیہ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ گذشتہ سال کے آخر میں دنیا بھر میں قریباً دو کروڑ اسی لاکھ افراد سے جبری مشقت لی جارہی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں