عالمی مارکیٹ میں تیل کی سخت رسد کو بآسانی تبدیل نہیں کیاجاسکتا:آرامکو،شیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی آرامکو کے چیف ایگزیکٹو نے کہا ہے کہ تیل کی مارکیٹ اس حقیقت پر توجہ مرکوز نہیں کر رہی ہے کہ پیداوار بڑھانے کے لیے دنیا کے پاس اضافی صلاحیت بہت کم ہے، شیل کے چیف ایگزیکٹو کا کہنا ہے کہ تیل کے شعبے کی طرف سرمایہ کاری تبدیل نہیں ہوگی کیونکہ فی الوقت قیمتیں زیادہ ہیں۔

آرامکو کے چیف ایگزیکٹو امین الناصر نے منگل کے روز لندن میں انرجی انٹیلی جنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مارکیٹ اس بات پر توجہ مرکوز کر رہی ہے کہ اگر دنیا کے مختلف حصوں میں کسادبازاری ہوتی ہے تو طلب کا کیا ہوگا، مگر وہ رسد کے بنیادی اصولوں پر توجہ نہیں دے رہی ہے۔

انھوں نے اضافی صلاحیت کو عالمی طلب کا 1.5 فی صد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اضافی پیداوارمہیا کرنا صرف سعودی آرامکو کی ذمہ داری نہیں ہے۔اس کو چین کی معیشت کو کرونا وائرس کی پابندیوں کے ختم ہوتے ہی استعمال کیا جائے گا۔

اسی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر(سی ای او)بین وان بیورڈن نے کہا کہ موجودہ بلند قیمتیں آسانی سے سرمائے کی تقسیم میں تبدیل نہیں ہوتی ہیں کیونکہ تیل اور گیس کے منصوبوں کی پیداوار اوران سے وصولی شروع ہونے میں دہائیاں لگ سکتی ہیں۔

وان بیورڈن نے کہا کہ ’’آپ مارکیٹ کے اشاروں پر فوری ردعمل نہیں دے سکتے ہیں جیسا کہ جو کچھ ہم آج دیکھ رہے ہیں۔شیل کی مجموعی حکمتِ عملی تیل اور گیس کی مصنوعات سے دور رہنے کے لیے رہی ہے۔ہم اس دنیا میں اضافی صلاحیت کے بغیر نہیں رہ سکتے ہیں‘‘۔

انھوں نے کہا کہ اگر ان کے پاس خرچ کرنے کے لیے ایک ارب ڈالر کی رقم ہوتی تو وہ ’مستقبل کے توانائی کے نظام‘ میں سرمایہ کاری کرتے۔ وان بیورڈن آیندہ سال شیل کی سربراہی سے دستبردار ہورہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں