تاریخ سے سبق سیکھیں: پوپ فرانسیس کا جوہری جنگ کے’خطرے‘ پرانتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

رومن کیتھولک کے روحانی پیشوا پوپ فرانسیس نے اپنے پیغام میں جوہری جنگ کے خطرے کے بارے میں خبردار کیا ہے اور چھے دہائی قبل دوسری ویٹی کن کونسل کے اجلاس کا ذکر کیا ہے،جب دنیا جوہری خطرے سے دوچار ہونے والی تھی اور اس کو ٹالنے کے لیے کونسل کا اجلاس طلب کیا گیا تھا۔

انھوں نے اتوارکے روزویٹی کن میں اپنی روایتی دعائیہ تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 60 سال قبل کونسل کے آغاز کے حوالے سے ہمیں جوہری جنگ کے اس خطرے کو نہیں بھولنا چاہیے جس نے اس وقت دنیا کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔

پوپ فرانسیس اکتوبر1962 میں کیوبا کے میزائل بحران کا حوالہ دے رہے تھے، جب امریکا کی جانب سے یورپ میں بیلسٹک میزائلوں کی تنصیب اور کیوبا میں سوویت یونین کی جانب سے جوہری جنگ میں اضافے کا خطرہ تھا۔

پوپ نے سوال کیا کہ ’’ہم تاریخ سے کیوں نہیں سیکھتے؟ یہاں تک کہ اس وقت بھی تنازعات اور بڑے پیمانے پر تناؤ تھا، لیکن امن کا راستہ منتخب کیا گیا تھا‘‘۔

پوپ فرانسیس نے گذشتہ جمعرات کوتھائی لینڈ میں "تشدد کے پاگل عمل" کے متاثرین کے لیے دعا بھی کی۔پوپ نے کہا:’’گہرے جذبات کے ساتھ، میں ان کی زندگیوں کو باپ کے سپرد کرتا ہوں، خاص طور پر چھوٹے بچوں اور ان کے اہل خانہ کو‘‘۔

وہ تھائی لینڈ میں گذشتہ ہفتے بدترین قتل عام کا حوالہ دے رہے تھے، جہاں دو درجن بچے ان 36 افراد میں شامل تھے جنھیں ایک حملہ آور نےگولی مار کرہلاک کر دیا گیا تھا اوراس اندوہناک واقعہ نے اوتھائی ساون کی دیہی بستی کا امن وسکون تباہ کردیا تھا اورپلک جھپکتے ہی چھوٹی کسان برادری کی نوجوان نسل کو موت کی نیندسلادیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں