سعودی وزیر دفاع کی یمن میں جنگ بندی پر رشاد العلیمی سے بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی کے ساتھ اقوام متحدہ کی طرف سے جنگ بندی میں توسیع کے لیے کی جانے والی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا، جس کی میعاد دو اکتوبر کو ختم ہو رہی تھی۔

سعودی وزیر دفاع نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کہا کہ انہوں نے پیر کو العلیمی سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع پر بات چیت کی تاکہ اس طرح یمن کے لیے سلامتی اور امن کا حصول ممکن ہو سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملاقات میں یمن کے میدان جنگ میں ہونے والی پیش رفت کے علاوہ ممکنہ تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مستقبل کے اقدامات کے بارے میں بھی بات کی گئی۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ سابقہ جنگ بندی میں توسیع کے لیے بین الاقوامی کوششیں جاری ہیں جس کی میعاد اکتوبر 2022 کو ختم ہو گئی تھی۔

جنگ بندی میں توسیع

دو [02] اگست کو اقوام متحدہ نے اعلان کیا کہ یمنی فریقین نے انہی شرائط کے مطابق 2 اگست سے 2 اکتوبر 2022 تک جنگ بندی کی مدت میں مزید دو ماہ کی توسیع پر اتفاق کیا ہے۔

الحوثي

یہ توسیع اقوام متحدہ کی سابقہ جنگ بندی کے بعد ہوئی جو گذشتہ اپریل (2022) میں یمن کے تمام جنگی محاذوں پر دو ماہ کی مدت کے لیے نافذ ہوئی۔ دو ماہ کے اندر مغربی یمن میں حدیدہ کی بندرگاہ پر ایندھن پہنچانے کے علاوہ صنعا بین الاقوامی ہوائی اڈے سے ہفتے میں دو پروازوں کو آنے اور جانے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

تاہم گذشتہ ہفتے حوثی ملیشیا نے ناقابل قبول شرائط عائد کرتے ہوئے اس جنگ بندی کی توسیع میں تیسری بار رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں