امریکی ادارے یو ایڈ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ لبنان کی نصف آبادی کو خوراک اور گھریلو اشیائے ضروریہ کے لیے امداد کی ضرورت ہے۔ یہ بیان لبنان میں امریکی سفارت خانے کی طرف سے یو ایس ایڈ کی ڈائریکٹر سمانتھا پاور کی منگل کے روز لبنان پہنچنے پر دیا گیا ہے۔ وہ تین روزہ دورے پر آئی ہیں۔
امریکی سفارت خانے کی طرف سے جاری کردہ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ بد ترین صورت حال یوکرین پر روسی حملی کی وجہ سے دنیا کو دیکھنا پڑ رہی ہے۔' بیان میں کہا گیا ہے کہ لبنان میں اس مالی بدحالی کے منفی اثرات ان پناہ گزینوں پر بھی مرتب ہوں گے جنہیں انسانی بنیادوں پر لبنان میں رکھا گیا ہے۔ '
سمانتھا پاور یو ایس کے تحت فراہمی خوراک کا ایک نظام وضع کرنے کے لیے اور پینےکا صاف پانی فراہم کرنے سمیت توانائی کی سہولت کے معاملات کا جائزہ لیں گی۔
عالمی بنک نے اس بارے میں کہا ہے ' لبنان حالیہ تاریخ کے بد ترین معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ یہ 2019 میں ملک گیر سطح پر شروع ہو جانے والے احتجاج کی وجہ سے بنی ہے۔' لبنانی کرنسی امریکی ڈالر کے مقابلے میں نوے فیصد نیچے گر چکی ہے۔ '
عالمی بنک کے مطابق 'عالمی سطح پر افراط زر اور لبنان میں سیاستدانوں کی وجہ سے ملک کی معاشی حالت دگر گوں ہے۔ '
سمانتھا پور نے کہا ہے وہ لبنانی حکام ، کاروباری شخصیات سے ملیں گی تاکہ انہیں فوری اصلاحات کے لیے قائل کر سکیں ۔ وہ کرپشن کے خاتمے لیے کام کرنے والے اداروں سے بھی ملیں گی تاکہ نجی شعبے کو مضبوط کیا جا سکے۔ وہ لبنانی اور شامی طلبہ کے علاوہ شامی پناہ گزینوں کے ساتھ بھی ملاقات کا ارادہ رکھتی ہیں۔
لبنان کا دورہ ختم کرنے کے بعد وہ شرم الشیخ میں کاپ 27 میں شرکت کے لیے مصر بھی جائیں گی۔