جمہوریہ ترکیہ کی پولیس نے اطلاع دی ہے کہ استنبول کی مشہور شاہراہِ استقلال پر شامی کردعورت نے بم نصب کیا تھا۔اتوار کو اس بم کے دھماکے کے نتیجے میں چھے افراد ہلاک اور کم سے کم پچاس زخمی ہو گئے تھے۔
ترک پولیس نے کہا ہے کہ اس شامی عورت کو وسطی استنبول میں بم نصب کرنے کے الزام میں گرفتارکرلیا گیا ہے۔اس نے مسلح افراد کے ساتھ مل کردہشت گردی کی کارروائی انجام دی تھی۔
#Taksim İstiklal Caddesinde meydana gelen Bombalı Terör Saldırısını gerçekleştiren terörist YAKALANDI🚨
— İstanbul Emniyet Müdürlüğü (@istanbul_EGM) November 14, 2022
Olayla ilgili başlatılan çalışmalar çok yönlü olarak devam etmektedir. pic.twitter.com/CniGox6r4u
ترکیہ کے ایک نجی ٹی وی چینل این ٹی وی نے پولیس کے حوالے سے تصدیق کی ہے کہ گرفتار عورت شامی شہری ہے۔اس نے مبیّنہ طور پراعتراف کیا کہ اسے کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کی جانب سے ایک حکم نامہ موصول ہوا تھا۔
ترکیہ کے جنوب مشرقی علاقے میں سکیورٹی فورسز کے خلاف برسرپیکار پی کے کے کو انقرہ اور اس کے مغربی اتحادیوں نے دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے اور اس کا نام عالمی دہشت گردگروپوں کی فہرست میں شامل ہے۔
اطلاعات کے مطابق استنبول میں بم دھماکا کرنے والی اس عورت کا نام احلام البشیر ہے۔اس نے پولیس کے روبرو ابتدائی بیان میں اعتراف کیا کہ اسے پی کے کے نے فوجی تربیت دی تھی۔ وہ اس بم حملے کے لیے شام کے قصبےعفرین اورسرحدی صوبہ ادلب کے راستے غیر قانونی طور پر ترکیہ کے سرحدی علاقے میں داخل ہوئی تھی۔