انڈونیشیا:بالی میں جی 20 سربراہ اجلاس سے قبل شی جِن پنگ اور بائیڈن کی ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

چین کے صدرشی جِن پنگ اور امریکی صدر جو بائیڈن نے پیر کے روزانڈونیشیا کے جزیرے بالی میں ملاقات کی ہے اوردوطرفہ تعلقات اور مختلف عالمی امور پرتبادلہ خیال کیا ہے۔

ان کے درمیان یہ بات چیت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان تعلقات گذشتہ کئی دہائیوں میں کم ترین سطح پر ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان تائیوان سے لے کر تجارت تک متعدد امور پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔

امریکی وزیرخزانہ جینٹ ییلین نے بالی میں نامہ نگاروں کوبتایاکہ اس سربراہ ملاقات کا مقصد’’امریکااور چین کے درمیان تعلقات کومستحکم کرنا اور امریکی کاروباری اداروں کے لیے زیادہ یقینی ماحول پیدا کرنا تھا‘‘۔

انھوں نے کہا کہ بائیڈن حساس امریکی ٹیکنالوجیز پر پابندیوں کے حوالے سے قومی سلامتی کے خدشات کے بارے میں چین کے ساتھ واضح رہے ہیں اور انھوں نے معدنیات جیسی اشیاء کے لیے چین کی سپلائی چینز کی پائیداری پرتشویش کا اظہار کیا ہے۔

دونوں لیڈروں کے درمیان منگل کوگروپ 20 (جی 20) کے سربراہ اجلاس سے قبل یہ براہ راست ٹاکرا ہوا ہے۔اس اجلاس کے ایجنڈے میں روس کی یوکرین میں جنگ کا موضوع سرفہرست ہوگا لیکن اس میں روسی صدر ولادی میرپوتین خود شرکت نہیں کررہے ہیں اور ان کی نمایندگی روسی وزیرخارجہ سرگئی لافروف کریں گے۔

شی جِن پنگ پیر کے روز جی 20 سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے بالی پہنچے تھے۔بائیڈن اتوار کو دیر گئے پہنچے تھے۔انھوں نے اتوارکو کمبوڈیا میں ایشیائی رہنماؤں سے کہا تھا کہ چین کے ساتھ امریکی مواصلاتی رابطے تنازعات کوروکنے کے لیے کھلے رہیں گے اورآیندہ دنوں میں سخت مذاکرات قریباً یقینی ہیں۔

واضح رہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ برسوں میں ہانگ کانگ اور تائیوان سے لے کر بحیرہ جنوبی چین تک کے معاملات پرکشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ تجارتی طریقوں اور چینی ٹیکنالوجی پرامریکی پابندیوں کی وجہ سے تعلقات کشیدہ ہوئے ہیں۔

تاہم امریکی حکام کاکہنا ہے کہ بیجنگ اورواشنگٹن دونوں کی جانب سے گذشتہ دو ماہ سے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے خاموش سفارتی کوششیں جاری ہیں۔بائیڈن انتظامیہ کے ایک عہدہ دار کا کہنا تھا کہ ’’یہ ملاقاتیں تنہائی میں نہیں ہوتیں بلکہ یہ ایک انتہائی پائیدارعمل کا حصہ ہیں۔ہم پردے کے پیچھے سنجیدہ اور مسلسل کئی گھنٹوں سے خاموش سفارت کاری میں مصروف ہیں۔میرے خیال میں ہم اس سنجیدگی سے مطمئن ہیں جو دونوں فریقوں نے اس عمل میں بروئے کارلائی ہے‘‘۔

شی جِن پنگ اورجوبائیڈن کےدرمیان ان کے جنوری 2021 میں صدر بننے کے بعد سے پانچ مرتبہ فون پرگفتگو یا ویڈیو کالزہوئی ہیں۔انھوں نے آخری بار اوباما انتظامیہ کے دورمیں بالمشافہہ ملاقات کی تھی۔ تب بائیڈن نائب صدر تھے۔

حالیہ برسوں میں شی جِن پنگ اور روسی صدرپوتین کے درمیان قربت میں اضافہ ہواہے اور انھوں نے روس کی جانب سے یوکرین پر حملے سے چند روز قبل ہی دوطرفہ شراکت داری کا اعادہ کیا تھا لیکن چین روس کی یوکرین جنگ میں مادی مدد میں محتاط رہا ہے اوراس نے براہ راست مادی مدد مہیا کرنے سے گریز کیا ہے جس سے اس کے خلاف مغربی پابندیاں عاید کی جا سکیں۔

واضح رہے کہ جی 20 میں برازیل سے لے کر بھارت اور جرمنی تک ممالک شامل ہیں۔یہ دنیا کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کے 80 فی صد سے زیادہ کے حامل ہیں اوران کی آبادی دنیا کا 60 فی صد ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں