روسی پروپیگنڈے کوٹویٹرسے دوررکھیں:یورپی یونین کی اعلیٰ عہدہ دارکاایلون مسک کوانتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یورپی یونین کی ایک اعلیٰ عہدہ دارنے خبردارکیا ہے کہ اگرٹویٹرانکارپوریٹڈ کے عملہ میں حالیہ چھانٹیوں کی وجہ سے یوکرین میں جنگ کے بارے میں پروپیگنڈے کوجڑسے اکھاڑ پھینکنے سے روکا گیا تو ایلون مسک کوروسی صدر ولادی میرپوتین کا مددگار سمجھا جائے گا اور ٹویٹرپر بھاری جرمانے عاید کیے جاسکتے ہیں۔

یورپی کمیشن کی نائب صدر ویرا جوروفا نے،جو آن لائن غلط معلومات سے نمٹنے کی کوششوں کی قیادت کررہی ہیں،بلومبرگ کے ساتھ ایک انٹرویومیں کہا کہ ’’آن لائن جعلی یا گمراہ کن موادکوہٹانے میں ناکام رہنا ٹویٹرکے بہت تیزی سے غلط استعمال کا باعث بن سکتا ہے۔اس میں اس بات کو یقینی بنانا بھی شامل ہے کہ یہ پلیٹ فارم روسی پروپیگنڈے کامرکزنہ بن جائے‘‘۔

انھوں نے کہا:’’پروپیگنڈے کے خلاف فعال طور پر کام نہ کرنے سے، جس کامطلب ہے کہ غلط معلومات کوہٹانے کے لیے فعال اندازمیں کام نہ کرنے سے آپ فعال طور پرجنگ کی حمایت کر رہے ہیں۔یہ مسٹرمسک کے لیے ایک بہت ہی مشکل اور شاید خطرناک کوشش یاایڈونچر ہوگا کیونکہ وہ ایسے شخص کے طور پرخود کو پیش کرناچاہتے ہیں جو یوکرین کی مدد کر رہا ہے‘‘۔

انھوں نے مسک کے اسٹار لنک سیٹلائٹ سسٹم کا حوالہ دیا ،جو یوکرین کے شہریوں اور اس کی فوج دونوں کے لیے انٹرنیٹ مواصلات فراہم کررہا ہے۔

یہ یورپی یونین کی جانب سے مسک کے دنیاکے سب سے بااثرسوشل میڈیاپلیٹ فارم کی 44 ارب ڈالرمیں خریداری کی تکمیل کے بعدبڑے پیمانے پراستعفوں اور چھانٹیوں کے ممکنہ ضمنی اثرات کے بارے میں تازہ انتباہ ہے۔اس میں بلاک کے سخت جنرل ڈیٹا پروٹیکشن ریگولیشن اورنئے ڈیجیٹل سروسز ایکٹ سمیت یورپی یونین کے قوانین کی پابندی کرنے کی صلاحیت بھی شامل ہے۔

سابق چیک سیاست دان جوروفا نے کہاکہ’’اگرٹویٹر نیٹ ورک کو روسی پروپیگنڈے کے لیےآسانی سے استعمال کیاجاتا ہے تو،آپ شاید پابندیوں کے قواعد کی خلاف ورزی کررہے ہیں کیونکہ آپ روس ٹوڈے اور اسپوتنک جیسے پابندیوں والے میڈیا کے ذریعے تیار کردہ مواد کو تقسیم کر رہے ہیں‘‘۔

ٹویٹرواحد پلیٹ فارم ہے جو جوروفا خوداستعمال کرتی ہیں، انھوں نے گذشتہ برسوں کے دوران میں میٹاپلیٹ فارمزانکارپوریٹڈ کے فیس بک کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔انھوں نے کہا کہ ارب پتی مالک نےاپنے پلیٹ فارم پر آزادیِ اظہاررائےلانے کاوعدہ کیا ہے اوریورپی یونین کواس کوکم نہیں کرنا چاہیے مگرٹویٹریورپی یونین کے قوانین پر عمل کرنے میں ناکام رہتا ہے تواس کو بالآخر بھاری پابندیوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے‘‘۔

یورپی قانون کے تحت یہ جرمانے ٹویٹرکی سالانہ عالمی فروخت کا6 فی صد تک ہوسکتے ہیں،جبکہ جی ڈی پی آر کی خلاف ورزیاں 4 فی صد تک جرمانے کے ساتھ آسکتی ہیں۔ کمیشن نے اس عزم کا بھی اظہار کیا ہے کہ وہ ’’اگلے سال مواد کےاعتدال پسندی کے قوانین کی تعمیل کے لیے ٹویٹر کی کوششوں پر’’تناؤ کا ٹیسٹ‘‘ کرے گا۔

جوروفا کا کہنا تھا کہ ’’مجھے لگتا ہے،مسٹرمسک اورشاید ان کے اردگرد کے کچھ دوسرے لوگوں کوکافی سمجھ نہیں کہ یورپ ترقی یافتہ خطہ ہے اوریہ کہ ڈیجیٹل دائرے سے رابطہ کرنے کے لیےکس طرح مکمل طور پرتجزیہ کرنے کے کئی سال کے بعد، ہم نے ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ کیا اور ہمارا مطلب یہ ہے کہ ریگولیشن کاہراس ادارے کی طرف سے احترام کیا جانا چاہیے جویورپی یونین کےعلاقے میں کاروبار کرناچاہتا ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں