فضائی دفاع نظام مشرق وسطیٰ سے یوکرین منتقل کرنے کا امریکی منصوبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ریتھیون ٹیکنالوجیز ڈیفنس کے ’سی ای او‘ گریگ ہیز نے کہا ہےکہ امریکا مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ مل کر خطے میں متعین فضائی دفاعی نظام کی ایک رینج یوکرین کو منتقل کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔

گریگ ہیز نے امریکی میگزین "پولیٹیکو" کے ساتھ ایک انٹرویو میں مزید کہا کہ اس اقدام کا مقصد اگلے 3 سے 6 ماہ کے اندر اندر یوکرین کو NASAMS کے زمین سے فضا میں مار کرنے والے جدید میزائل سسٹم بھیجنا ہے۔

ہیز نے وضاحت کی کہ پورے مشرق وسطیٰ میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے جدید ترین امریکی میزائل سسٹم بکھرے ہوئے ہیں اور یہ کہ امریکہ اور نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کے کچھ اتحادی پہلے ہی مشرق وسطیٰ کے دو ممالک کے ساتھ کام کر رہے ہیں جو فی الحال ان نظاموں کو استعمال کر رہے ہیں۔ اس سسٹم کو یوکرین کی طرف ری ڈائریکٹ کرنے کے لیےکام ہو رہا ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ مشرق وسطیٰ سے ان سسٹمز کی منتقلی تیزی کے ساتھ جاری ہے کیونکہ یہ ایک ایسا عمل جس میں 24 ماہ لگتے ہیں۔

بائیڈن انتظامیہ کو یوکرین کو فضائی دفاعی نظام کی منتقلی کے لیے "اس انتظام کو قبول" کرنا پڑے گا۔ پینٹاگان کے ترجمان نے پولیٹیکو کی جانب سے تبصرہ کرنے کی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔

یوکرینی دباؤ

میگزین نے نشاندہی کی کہ یوکرینی حکام کئی مہینوں سے امریکا پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ روس کے میزائل حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے NASAMS سسٹم بھیجے۔

ان نظاموں کی رینج دیگر فضائی دفاعی آلات سے زیادہ ہے جو مغربی ممالک نے یوکرین کو بھیجے ہیں۔

پہلے دو نظام نومبر کے اوائل میں یوکرین پہنچے تھے۔امریکا نے وعدہ کیا ہے کہ مزید سسٹم کیف کو بھیجے گا۔

بدھ کو امریکی فوج نے 2025ء تک یوکرین کو ایسے چھ نظام فراہم کرنے کے لیے 1.2 بلین ڈالر کا معاہدہ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں