روس اور یوکرین

گروپ سیون کی طرف سے روسی تیل کی قیمت 60 ڈالر طے کرنازیلنسکی نےغیر سنجیدہ قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یوکرین کے صدر ولادی میر زیلنسکی نے گروپ سیون اور آسٹریلیا کی طرف سے روسی تیل کی قیمت کو ساٹھ ڈالر تک محدود کر دینے کے فیصلے پر عدم اطیمنان ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے اس فیصلے کو روسی دہشت گرد ملک کی معیشت کو مضبوط کرنے کے حق میں خود فیصلہ کرنے والوں سمیت اپنے ملک کے خلاف فیصلہ قرار دیا ہے۔

صدر زیلنسکی نے یہ بات یہاں ہفتے کے روز کہی ہے۔ ان کا کہنا تھا ' گروپ سیون کے رکن ممالک اور آسٹریلیا کے اس فیصلے کہ 'روسی تیل کی قیمت ساٹھ ڈالر ہو گی ' سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ روس کو جنگ بازی سے روکنے کے لیے سنجیدہ نہیں ہیں۔ واضح رہے اب یورپی یونین نے اس فیصلے کی منظوری دینا ہے۔

اس فیصلے کا مقصد یوکرین کے خلاف پچھلے تقریبا دس ماہ سے جنگ میں مصروف روس کی آمدنی پر اثر انداز ہو کر اسے نیچے لانا ہے تاکہ روسی معیشت کمزور ہو سکے۔ اس راستے سے بعض یورپی ملکوں ، امریکہ نے آسٹریلیا نے ایک طرح سے کھلے عام ، اعلانیہ اور اجتماعی طور پر روسی معیشت کے لیے ' ہٹ مین ' کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن یوکرین نے اسے غیر سنجیدہ فیصلہ قرار دے دیا ہے۔

گروپ سیون اور آسٹریلیا کے روسی تیل بارے نئی قیمت کے اس فیصلے کی یورپی یونین سے منظوری کے بعد یہ فیصلہ عمل درآمد کی طرف آئے گا۔ صدر زیلنسکی نے کہا ' روس کے خلاف ضروری اور موثر اقدامات کیے بغیر یہ فیصلہ محض وقتی فیصلہ ہو گا اور اس انداز سے کیے گئے فیصلوں کے نتیجے میں ہمارے وقت ہاتھ سے نکل جائے گا۔ '

واضح رہے اس سے قبل زیلنسکی انتظامیہ کے ذمہ دار آندرے یرمک نے روسی تیل کی قیمت 30 ڈالر مقرر کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاکہ روسی معیشت کو تباہ کیا جاسکے۔ لیکن اس مطالبے کے بر عکس 'جی سیون' اور آسٹریلیا نے روسی تیل کی قیمت 60 ڈالر مقرر کی ہے۔

صدر زیلنسکی کو اپنے اتحادی ملکون سے گلہ ہے کہ 'روسی تیل کی قیمت 60 ڈالر مقرر کر کے کمزوری دکھائی گئ ہے۔ اس کے نتیجے میں روسی بجٹ سالانہ 100 ارب ڈالر تک چلا جائے گا۔' جبکہ روس اس دولت سے انہی ملکوں کو غیر مستحکم کرے گا جو اس وقت روس کے خلاف سنجیدہ اقدامات نہیں کر رہے ہیں۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں