استنبول کے میئرکو سزا؛عدالتیں کسی بھی غلطی کا ازالہ کریں گی:صدرایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہاہے کہ استنبول کے حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والےمیئرکو جیل کی سزاکے بعد عدالتیں اپیل کے عمل میں کسی بھی غلطی کاازالہ کریں گی۔اس دوران میں ترکوں کو قانونی فیصلوں کو نظراندازکرنے کاکوئی حق نہیں ہے۔

صدرایردوآن نے کہاکہ انھیں اس بات کی پروانہیں کہ اگلے سال کے انتخابات میں حزب اختلاف کا امیدوار کون ہوتاہے۔

انھوں نے کہا کہ ابھی تک عدالت کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں آیا ہے۔ یہ معاملہ اپیل عدالت اور کورٹ آف کیسیشن میں جائے گا۔اگر ماتحت نے کوئی غلطی کی ہے تو اسے درست کیا جائے گا لیکن وہ ہمیں اس کھیل میں کھینچنے کی کوشش کررہے ہیں۔

استنبول کے میئر اکرم امام اوغلونے عدالت کے فیصلے کوحزب اختلاف کے خلاف جمہوریت، قانون کی حکمرانی اورانصاف کی لڑائی قراردیا ہے۔ان کی قیادت میں ہزاروں افرادریلیوں میں جمع ہوئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ وہ اپنی سزا کے خلاف اپیل دائرکرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

صدر ایردوآن نے ترکی کے جنوب مشرقی علاقے ماردین میں ہفتے کے روزایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ’’بہت سے عدالتی فیصلوں کی بنا پرہمیں سخت تنقید کا نشانہ بنایاگیا ہے لیکن اس سے کسی کو بھی ججوں کی توہین کرنے یا عدالتی فیصلوں کو نظرانداز کرنے کا حق نہیں مل جاتا‘‘۔

ناقدین کاکہناہے کہ ترکی کی عدلیہ اپنے ناقدین کو سزا دینے کے لیے صدرایردوآن کی منشا کے مطابق فیصلوں پرتلی ہوئی ہے جبکہ حکومت کاکہنا ہے کہ وہ فیصلوں میں آزاد ہیں۔

استنبول کی ایک عدالت نے گذشتہ بدھ کوشہرکے ہائی پروفائل میئرکو انتخابی عہدے داروں کی توہین کے الزام میں قصور وار قرار دے کر دو سال سات ماہ قید کی سزا سنائی تھی،جس سے صدر رجب طیب ایردوآن کے خلاف ان کی ممکنہ انتخابی مہم خطرے میں پڑسکتی ہے۔

اگراعلیٰ اپیل عدالتیں اس فیصلے کو برقراررکھتی ہیں تو اس کے نتیجے میں حزب اختلاف کی مقبول سیاسی شخصیت امام اوغلو پرپابندی عاید ہو جائے گی اور وہ آیندہ سال جون میں ہونے والے انتخابات میں صدر ایردوآن کو شاید چیلنج نہیں کرسکیں گے۔

البتہ وہ آج کے بعد اعلیٰ عدالتوں کے حتمی فیصلے تک استنبول کے میئربرقراررہیں گے۔میئر اور ترک صدر کے درمیان تنازع 2019 میں منعقدہ بلدیاتی انتخابات سے شروع ہواتھا اورامام اوغلو نے ترکی کے سب سے بڑے شہر کو صدر ایردوآن اور ان کی جماعت سے چھین لیا تھا اورمرکزی حزب اختلاف کی جماعت سی ایچ پی کے لیے حیرت انگیز فتح حاصل کی تھی۔خود طیب ایردوآن کا اپنا سیاسی عروج 25 سال قبل اسی شہرمیں شروع ہوا تھا اورانھوں نے استنبول میں انتخابی شکست کو ذاتی طور پرلیا تھا۔

ترکی کی سپریم الیکشن کونسل نے ایردوآن کے معاونین کے اثرورسوخ کے باعث امام اوغلو کی پہلی انتخابی کامیابی منسوخ کردی تھی۔تاہم انھوں نے میئر کے عہدے کے لیے دوبارہ پولنگ میں لینڈ سلائیڈنگ کامیابی حاصل کی تھی۔

امام اوغلو نے عدالت کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اس کا عوامی جذبات پربھی اسی طرح کا اثرپڑے گا۔انھوں نے کہا کہ قوم نے ہمیں جو اختیارات دیے ہیں وہ چند لوگ چھین نہیں سکتے۔اللہ نے چاہا تو ہماری لڑائی مزید طاقتور ہو جائے گی‘‘۔

میئرپرالزام ہے کہ انھوں نے نومبر2019 میں ایردوآن کے خلاف اپنی جیت کے چند ماہ بعد انتخابی کونسل کے ارکان کی توہین کی تھی جبکہ وہ کسی غلط کام کرتے ہیں۔انھوں نے ترک صدر پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ ’’اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف قانون کو ہتھیار کے طور پر استعمال کررہے ہیں‘‘۔

امام اوغلو نے اس وقت کہا تھا کہ ’’جنھوں نے 31 مارچ کو انتخابات منسوخ کیے وہ احمق تھے‘‘۔ان کی اس گفتگو کوحکام نے الیکشن بورڈ کے ججوں کی توہین سے تعبیرکیا تھا۔

اپیل عدالتیں اگرامام اوغلو کی سزا کی توثیق کردیتی ہیں تو پھر بلدیہ استنبول کی سٹی کونسل نئے میئر کا انتخاب کرے گی۔اس کونسل پرصدر ایردوآن کی حکمران جماعت آق کا غلبہ ہے۔امام اوغلو قومی سطح پر ایک مقبول سیاسی شخصیت ہیں اور معتبر رائے دہندگان انھیں صدر کے عہدے کے لیے انتخاب میں ایردوآن کے ایک سخت حریف کے طورپردیکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں