روس اور یوکرین

تباہ کن عالمی جنگ روکنے کیلئے یوکرین پر مذاکرات کا وقت آگیا: کیسنجر

کچھ لوگوں کی روس کو ختم کرنے کی خواہش جوہری افراتفری کا باعث بن سکتی: امریکی سفارتکار کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

تجربہ کار امریکی سفارت کار ہنری کسنجر نے کہا کہ ایک اور تباہ کن عالمی جنگ کے خطرے کو کم کرنے کے لیے یوکرین میں امن کے لیے بات چیت کا وقت آگیا ہے، لیکن انھوں نے خبردار کیا کہ کچھ لوگوں کی روس کو ختم کرنے کی خواہش جوہری افراتفری کا باعث بن سکتی ہے۔

ہنری کسنجر نے امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ کے دوران سیاسی بریک تھرو میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ وہ اس وقت ریپبلکن صدور رچرڈ نکسن اور جیرالڈ فورڈ کے ماتحت وزیر خارجہ تھے، کسنجر 2000 میں پہلی مرتبہ صدر منتخب ہونے کے بعد سے پوتین سے کئی ملاقاتیں کر چکے ہیں۔

یاد رہے 24 فروری کو روس نے یوکرین پر حملہ کیا تھا اور اس کے بعد سے جنگ ختم نہیں ہوسکی۔ اب تک سینکڑوں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوگئے ہیں۔ روس اب بھی یوکرین کے پانچویں حصے پر قابض ہے۔

کریملن کا کہنا ہے کہ کیف کو ماسکو کے جنوبی اور مشرقی یوکرین کے علاقوں کے الحاق کو تسلیم کرنا چاہیے۔ یوکرین کا کہنا ہے کہ ہر روسی فوجی کو کریمیا سمیت یوکرین کی سرزمین چھوڑنا ہوگی، روس نے کریمیا کے 2014 میں روس سے الحاق کا اعلان کیا تھا۔

برطانوی میگزین "دی سپیکٹیٹر" میں "دوسری عالمی جنگ سے بچنے کے طریقے" کے عنوان کے تحت ایک مضمون میں کسنجر نے کہا: "وقت قریب آ رہا ہے کہ ان سٹریٹجک تبدیلیوں کو آگے بڑھایا جائے جو پہلے ہی حاصل کی جا چکی ہیں اور انہیں ایک نئے ڈھانچے میں ضم کر دیا جائے جو مذاکرات کے ذریعے امن کے حصول کو یقینی بنائے۔

اپنے مضمون میں کسنجر نے کہا کہ امن کے عمل کو یوکرین کو نیٹو سے جوڑنا چاہیے۔ غیر جانبدار رہنے کا آپشن اب معنی خیز نہیں ہے۔

کسنجر نے کہا کہ انہوں نے مئی میں ایک جنگ بندی کی تجویز پیش کی تھی جس کے تحت روس 24 فروری کو یوکرین پر حملہ کرنے سے پہلے پہلے کی صفوں سے پیچھے ہٹ جائے گا، لیکن کریمیا بہر حال "مذاکرات" کا موضوع رہے گا۔

99 سالہ کسنجر نے ان علاقوں کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے بین الاقوامی نگرانی میں ریفرنڈم کرانے کا مشورہ دیا جن کے الحاق کا روس نے اعلان کر رکھا ہے۔ یہی صورتحال جاری رہی تو 2014 کی صورتحال تک واپس جانا ناممکن ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

کسنجر نے متنبہ کیا کہ روس کو "بے اختیار" دکھانا یا اسے ختم کرنے کی کوشش کرنا افراتفری کو جنم دے سکتا ہے۔ نہ ہی یوکرین اور نہ ہی کوئی مغربی ملک اس افراتفری کی حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا "روس کو ختم کرنا یا اس کی حکمت عملی (مشق) کی صلاحیت کی تباہی اس کے علاقے کو، جس میں 11 ٹائم زونز شامل ہیں، کو ایک متنازعہ باطل میں بدل سکتا ہے۔" ہنری کسنجر نے مزید کہا کہ روس، جس کی سرزمین پر 11 ٹائم زونز موجود ہیں، کو ختم کرنا یا اس کی حکمت عملی کی صلاحیت کو تباہ کرنا اس سرزمین کو مقابلہ کی جگہ میں تبدیل کردے گا۔

انہوں نے مزید کہا، ان کے حریف معاشرے اپنے تنازعات کو تشدد سے حل کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ دوسرے ممالک طاقت کے ذریعے اپنے دعوؤں کو بڑھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ یہ تمام خطرات ہزاروں ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی میں کئی گناہ بڑھ جائیں گے۔ یہی ایٹمی ہتھیار روس کو دوسری بڑی عالمی طاقت بنا رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں