سعودی عرب میں خاتون اور اس کے غیرملکی شوہر کو 111 سال قید کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی پبلک پراسیکیوشن کے ایک سرکاری ذریعے نے اعلان کیا کہ ایک خاتون شہری اور اس کے غیر ملکی شوہرکو مالی فراڈ کی منظم مجرمانہ تشکیل کے الزام میں 111 سال قید اور 28 ملین ریال جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ سعودی عرب کے پبلک پراسکیوشن نے خاتون اور اس کےشوہر سمیت 23 افراد اور اداروں کے خلاف تحقیقات کی ہیں۔

تفتیش سے یہ بات سامنے آئی کہ متعدد رپورٹس موصول ہوئی ہیں جن میں متاثرین کو دھوکہ دہی اور فراڈ کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ملزمان نے شہریوں اور غیر ملکی رہائشیوں کے ایک بڑے طبقے کاروبار اور سرمایہ کاری کا جھانسہ دے کر پھنسایا اور انہیں ورچوئل کرنسیوں، سونے میں سرمایہ کاری کرنے کا دھوکہ دیا۔ تیل، پری پیڈ کارڈز اور (غیر قانونی) غیر ملکی سرمایہ کاری متاثرین کے بینک اکاؤنٹ نمبروں سے ان میں موجود رقم نکلوائی جاتی۔ فرضی افراد اور تجارتی اداروں کے ناموں پر اکاؤنٹس میں منتقل کی جاتی اور پھر مملکت سے باہر منتقل کی جاتی ہے۔

تفتیش سے پتہ چلتا ہے کہ تارکین وطن ( خاتون کے شوہر) نے مرد اور خواتین شہریوں کواپنے ناموں پر فرضی تکنیکی تجارتی ادارے کھولنے۔ بینک اکاؤنٹس کھولنے اس کے ذریعے بینک اکاؤنٹس کا انتظام کرنے اور متاثرین سے رقم وصول کرنے کے لیے استعمال کرنے پر آمادہ کیا۔

تفتیشی طریقہ کار سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ مجرموں نے کچھ رقم متاثرین کے اکاؤنٹس کے درمیان منتقل کر کے اسے گھمایا، کیونکہ انہوں نے انہیں رقم دوسرے متاثرین کو منتقل کرنے کے لیے تفویض کی اور انہیں یہ دھوکہ دیا کہ یہ رقم تجارت میں ان کے منافع کا نتیجہ ہے۔ انہیں امیر ہونے کا لالچ دیا۔ انہوں نے متاثرین سے کہا کہ وہ فوری طور پر رقوم ڈبل کرنے کا لالچ دیا گیا۔

مجرموں کو مالی دھوکہ دہی، منی لانڈرنگ، جعلسازی اور معلومات کے جرائم سے نمٹنے اور چھپانے کے نظام کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور مجاز عدالت کے حوالے کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں