شام میں ایرانی ڈرون ڈویلپمنٹ یونٹ پر اسرائیلی بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

آج جمعرات ’العربیہ‘ چینل کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیل نے گذشتہ اتوار کو شام کے القصیر ہوائی اڈے پر حزب اللہ کے ایک فضائی یونٹ کو نشانہ بنایا۔ بتایا جاتا ہے کہ بمباری کرنے والی حزب اللہ کی 127ویں یونٹ لبنان میں ڈرون تیار کرنے کا ذمہ دار تھا۔

ایرانی ڈرونز کی ترقی کا ہیڈ کوارٹر

ذرائع نے مزید کہا کہ شام کا القصیر ہوائی اڈہ ایرانی ڈرونز کے لیے تحقیق اور ترقی کے مرکز میں تبدیل ہو گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اسرائیل نے گذشتہ پیر کو شام کے دارالحکومت دمشق کے مرکز میں واقع ایک ایرانی ہیڈکوارٹر پر حملہ کیا۔ ایران اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کے لیے شام کے بنیادی ڈھانچے اور دمشق میں رہائشی مقامات کو استعمال کر رہا ہے۔

اس کے علاوہ اسرائیلی بمباری میں دو شامی فوجی زخمی ہو گئے، جس نے پیر/منگل کی رات دمشق کے آس پاس کے مقامات کو نشانہ بنایا۔ شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’سانا‘ کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیل نے ایک حملہ کیا۔ یہ حملہ میزائلوں سے کیا گیا۔

حزب اللہ کا اسلحہ ڈپو

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق بمباری میں لبنانی "حزب اللہ" سے تعلق رکھنے والے ہتھیاروں کے ڈپو کو نشانہ بنایا گیا جو دمشق کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور دارالحکومت کے جنوب میں سیدہ زینب کے علاقے کے درمیان واقع ہے۔

آبزرویٹری کے مطابق تہران کے وفادار دھڑے اور لبنانی "حزب اللہ" جو شام میں 2013 سے شامی حکومت کی حمایت میں کھل کر لڑ رہے ہیں، خطے میں سرگرم ہیں۔

مسلسل بمباری

وقتاً فوقتاً اسرائیل شام میں متعدد مقامات پر بمباری کرتا ہے، جن میں سے تازہ ترین 19 نومبر کو حمص اور حما کی مرکزی گورنریوں میں مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جس میں سرکاری میڈیا کے مطابق چار شامی فوجی ہلاک ہوئے۔

اس وقت یہ بمباری اسرائیل کی جانب سے ملک کے وسط میں واقع الشعیرات فوجی ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کے تقریباً ایک ہفتے بعد ہوئی تھی، جس میں دو فوجی ہلاک اور تین دیگر زخمی ہوئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں