ایران روس کو جدید ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھنا چاہتا: موساد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

موساد کے سربراہ ڈیوڈ پارنیا نے خبردار کیا ہے کہ ایران روس کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات کو گہرا کر رہا ہے اور اسے جدید ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہے۔

اسرائیلی اخبار "دی یروشلم پوسٹ" کے مطابق پارنیا نے مزید کہا کہ خفیہ ایجنسی نے حالیہ مہینوں میں ایران کی طرف سے اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک کے خلاف دہشت گردانہ حملے کرنے کی سنگین کوششوں کا سراغ لگایا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ موساد نے مہینوں پہلے خبردار کیا تھا کہ ایران روس کی مدد کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے اور اب یہ ہتھیار روسی فوج تک پہنچ چکے ہیں۔

پارنیا کے بہ قول "ایران کے جھوٹ کے باوجود اسرائیل نے روس کو ہتھیاروں کی فراہمی کو نمایاں کیا ہے۔"

ایرانی جھوٹ
انہوں نے کہا کہ "ایرانی جھوٹ ہمارے لیے نیا نہیں ہے۔ مغرب میں ایسے عناصر موجود ہیں جو ایران کے ساتھ معاہدے پر دستخط کا مطالبہ کرتے ہیں اور خود معاہدے میں موجود ایرانی جھوٹ کو صریح نظر انداز کرتے ہیں۔"

پارنیا نے نشاندہی کی کہ موساد وہ واحد انٹیلی جنس سروس ہے جو ایران کے کاموں سے حیران نہیں ہوئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی یہ دکھاوا کرتے رہیں گے کہ وہ ایک عام ملک ہیں اور ساتھ ہی حکومت کی بقا کے لیے دہشت گردی اور اپنے شہریوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنانے کی پالیسی پر عمل درآمد بھی جاری رکھیں گے ۔

یاد رہے امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے گزشتہ اکتوبر میں یوکرین میں ایرانی ہتھیاروں سے کئے جانے والے حملوں کی اقوام متحدہ سے تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

مغربی ممالک ایران پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ روسی افواج کو یوکرین کے اندر جنگ میں استعمال ہونے والے ڈرون فراہم کر رہا ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کی خلاف ورزی ہے۔ یہ قرارداد ایران کے ساتھ 2015 کے جوہری معاہدے کے بعد منظور کی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں