روس اور یوکرین

روس کی کیف کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے بعد یوکرین پرمیزائلوں کی بوچھاڑ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

روس نے ہفتے کے روز یوکرین پرمیزائلوں کی دوسری مرتبہ بوچھاڑ کی ہے جس کے نتیجے میں لوگوں کو خودکومحفوظ رکھنے کے لیے تہ خانوں میں جاناپڑا ہے۔روس کے صبح کے وقت فضائی حملوں کے چندگھنٹے بعد ہی ملک بھرمیں سائرن بج رہے تھے۔ان میزائل حملوں میں کیف اور مشرقی شہر خارکیف میں اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

مائیکولیف، مغربی شہر لفیف اور بحیرہ اسود کی بندرگاہ اوڈیسا کے حکام کا کہنا ہے کہ یوکرین کا فضائی دفاع آنے والے میزائلوں کومارگرانے کی کوشش کررہاتھا۔ یوکرین کے سرکاری نشریاتی ادارے سوسپلن نے خبر دی ہے کہ وسطی علاقے وینیتسا میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

ماسکونے اکتوبر سے میزائلوں اورڈرونز کے ساتھ یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کونشانہ بنا رہا ہے جس کی وجہ سے شدید موسم سرما کے توڑ مرکزی حرارتی نظام میں بلیک آؤٹ کی وجہ سے رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔

روسی فوج نے آج علی الصباح پہلے کیف کوفضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا اور شہرسے سلسلہ وار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہی ہیں۔اس کے بعد دوسری مرتبہ میزائل حملے کیے گئے ہیں۔اس دوسری لہر میں کسی جانی نقصان کی فوری طورپرکوئی اطلاع نہیں ہے۔

حکام نے بتایا کہ پہلی لہر کے بعد کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں لیکن میزائل کے ملبے سے ایک جگہ آگ بھڑک اٹھی اور دارالحکومت کے باہر گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔

کیف کی فوجی انتظامیہ نے ایک بیان میں کہا کہ حملے میں کوئی زخمی نہیں ہوا ہے۔بنیادی ڈھانچے کی ایک تنصیب کو نشانہ بنایا گیا تھا۔اس سے کوئی خاص نقصان نہیں ہوا اورتمام ہنگامی خدمات حملے کی جگہ پر کام کر رہی تھیں۔

پاور گرڈ چلانے والے یوکرنرگو کا کہنا ہے کہ اس کے کارکن اس نقصان کو ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور نیٹ ورک کو پہلے کے حملوں کی وجہ سے بجلی کی کمی کا سامنا ہے۔کیف میں آج درجہ حرارت منفی 2 سینٹی گریڈ (28 فارن ہائیٹ) تھا اور سردی تھی۔

بجلی کی سب سے بڑی نجی کمپنی ڈی ٹی ای کے نے کیف، کیف ریجن اور اوڈیسا ریجن میں ہنگامی بلیک آؤٹ متعارف کرایا ہے۔کیف کے میئر کا کہنا تھا کہ میزائل کا ملبہ کیف کے مغربی علاقے ہولوسیوسکی میں ایک غیر رہائشی جگہ پر گرا جس کے نتیجے میں آگ لگ گئی لیکن کوئی زخمی نہیں ہوا۔

دارالحکومت کے نواح میں واقع علاقےکوپی لیف گاؤں میں رہائش کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا۔ علاقائی گورنر اولیکسی کلیبا نے بتایا کہ دھماکے کے نتیجے میں 18 نجی گھروں کی کھڑکیاں اور چھتیں ٹوٹ گئیں یا انھیں نقصان پہنچا تھا۔

یوکرینی فضائیہ کے ترجمان یوری اہناٹ کا کہنا ہے کہ روسی میزائل ممکنہ طور پر شمال کی جانب سے بیلسٹک راستے پر داغے گئے ہیں جس سے یہ واضح ہو جائے گا کہ فضائی حملے کا سائرن کیوں نہیں بج رہا تھا۔

انھوں نے یوکرینسا پراودا آن لائن آؤٹ لیٹ کوبتایا کہ یوکرین بیلسٹک میزائلوں کی شناخت کرنے اورانھیں مار گرانے کے قابل نہیں ہے۔

خرکیف پر میزائل حملہ

یوکرین کے شمال مشرقی علاقے خرکیف کے علاقائی گورنر اولیگ سینی ہوبوف نے بتایا کہ ہفتے کوعلی الصباح روسی سرحد کے قریب شہر کو دو ایس-300 میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔

انھوں نے کہا کہ حملوں میں خطے کے اضلاع خرکیف اور چوہوف میں توانائی کے اہم بنیادی ڈھانچے اور صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ہمارے ایمرجنسی سروسز یونٹس اور انرجی ورکرزنتائج کو ختم کرنے اور توانائی کی فراہمی کے ساتھ صورت حال کو مستحکم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

یہ میزائل حملے ایک ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب یوکرینی اور روسی افواج مشرقی یوکرین میں نمک کی کان کے ساتھ واقع ایک چھوٹے سے قصبے سولیدار پرکنٹرول حاصل کرنے کے لیے لڑ رہی ہیں۔

روس نے جمعہ کے روز کہا تھا کہ اس کی افواج نے سولیدار کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔یہ گذشتہ کئی ماہ تک میدان جنگ میں شکست کے بعد ماسکو کے لیے ایک نادر کامیابی ہوگی جبکہ کیف کا کہنا ہے کہ اس کے فوجی اب بھی شہر میں لڑ رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں