’’امداد داخل ہونے دیں‘‘ امریکہ کا تمام شامی فریقوں سے مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

پیر چھ فروری کے تباہ کن زلزلہ سے شام اور ترکیہ میمں 35ہزار افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔ امریکی حکومت نے اتوار کو شامی حکومت اور ملک میں موجود تمام فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک بھر میں تمام ضرورت مندوں کے لیے فوری انسانی امداد کے داخلے پر رضامند ہوجائیں۔

رائٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نے کہا کہ تمام انسانی امداد کو تمام سرحدی گزرگاہوں سے داخل ہونے کی اجازت دی جانی چاہیے اور بغیر کسی تاخیر کے تمام متاثرہ علاقوں میں امداد تقسیم کی جانی چاہیے۔

واشنگٹن نے شامی حکومت کے صدر بشار الاسد سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ بغیر کسی رکاوٹ کے تمام ضرورت مندوں کو انسانی امداد تک فوری رسائی فراہم کریں، بشار الاسد انسانی امداد کی فراہمی کے لیے ایک جامع مینڈیٹ فراہم کریں۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے مزید کہا کہ ’’امریکہ اس انسانی بحران میں شامی عوام کے ساتھ کھڑا ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ صدر جو بائیڈن نے واضح کیا ہے کہ امریکہ شامی عوام کو ہر قسم کی امداد اور ہر طرح کی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے اور ہم اس عزم کو جاری رکھیں گے۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور کے ترجمان نے اتوار کے روز رائٹرز کو بتایا کہ حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں سے اپوزیشن کے زیر کنٹرول علاقوں میں امداد کی منتقلی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ مشکلات ’’ھیئہ تحر یر الشام‘‘ کی جانب سے اجازت کےحصول میں مشکل پیش آنے کی وجہ سے ہو رہی ہیں۔ یہ مسئلہ امدادی کارکنوں کے لیے ایک اضافی چیلنج بن گیا ہے۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ کا ایک نیا قافلہ اتوار کے روز ترکیہ سے شام میں زلزلہ کے متاثرین کے لیے انتہائی ضروری امداد لے کر داخل ہوا تھا۔ اے ایف پی کے مطابق 10 ٹرک شمال مغربی شام میں ’’باب الھوی‘‘ کراسنگ سے شام میں داخل ہوئے۔ یہ ٹرک عارضی پناہ گاہوں کے لیے سامان لے کر گئے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ شمال مغربی شام کے لیے مختص انسانی امداد عام طور پر ترکیہ سے باب الھوی کے ذریعے پہنچائی جاتی ہے، یہ واحد کراسنگ پوائنٹ ہے جس کی ضمانت سرحد پار امداد سے متعلق سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے دی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں